Forum Pakistan - Pakistani Forums
Pakistani forum, where you can discuss freely on all issues from khabrain, muqabaley, cricket, khail, film, dramay, shair shaery, safar, batein, muhabat kay qissay, warzish, sehat, rozee, akhbar, siasat, naukary ghar pyaar dokan aur karobar gupshup.
|
|
|
| Author |
Message |
|
|
askari.z55
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007 Posts: 1505
|
|
| Sardar Jii |
|
جب دہلی اور نئی دہلی میں فرقہ ورانہ قتل و غارت کا بازار گرم اور مسلمانوں کا خون سستا ہوگیا تو میں نے سوچا واہ رہی قسمت پڑوسی بھی ملا تو سکی، حق ہمسائیگی ادا کرنا اور جان بچانا تو کجانا جانے کب کر پان بھونک دے، بات یہ ہے کہ میں کسی قدر سکھوں سے ڈرتا ہوں، کافی نفرت کرتا ہوں اور ان کو عجیب الخلقلت قسم کا جانور سمجتھا ہوں، آج سے نہیں بچپن سے ، میں شاید چھ برس کا تھا، جب پہلی بار میں نے ایک سکھ کو دیکھتا تھا جو دھوپ میں بیٹھا اپنے بالوں میں کنگھی کر رہا تھا، میں چلا پڑا، ارے وہ دیکھو عورت کے منہ پر کتنی لمبی داڑھی جیسے جیسے عمر گزرتی گئی یہ استجناب ایک فطری نفرت میں تبدیل ہوگیا، گھر کی بڑی بوڑھیاں جب کسی بچے کے بارے میں نامبارک بات کا ذکر کرتیں مثلا یہ کے اسے نمونیا ہوگیا تھا اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے، تو کہتیں اب سے دور
کسی سکھ فرنگی کو نمونہ ہوگیا تھا، یا اب سے دورکسی سکھ فرنگی کا ٹانک ٹوٹ گئی تھی، بعد میں معلوم ہوا کہ یہ 1857 کییاد گار تھا، جب ہندو مسلمانوں کی جنگ آزادی کو دبانے میں پنجاب سے سکھ راجو اور ان کی فوجوں نے فرنیگیوں کا ساتھ دیا تھا، مگر اس وقت تاریخ حقائق پر نظر نہیں تھی، صرف ایک مہم سا خوف ایک عجیب سے نفرت اور ایک عمیق تعصب ڈرانگیز سے بھی لگتا تھا اور سکھ سے بھی مگر اس وقت بھی مگر انگریز سے زیادہ مثلا جب میں کوئی دس برس کا تھا، ایک روز دہلی سے علی گڑھ جا رہا تھا ہمیشہ تھرڈ انڑ میں سفر ہوتا تھا سوچا اب کی بار سیکنڈ کلاس میں سفر کر کے دیکھا جائے ٹکٹ خرید لیا، اور ایک خالی ڈبے میں بیٹھ کرگدو پر خوب کودا باتھ روم کے آئینے میں اچک اچک کر اپنا عکس دیکھا سب پنکھوں کو ایک ساتھ چلا دیا، روشنیوں کو کبھی جلایا کبھی بجھایا، مگر گاڑی کے چلے نے میں دو تین منٹ باقی تھے کہ لال لال منہ والے چار فوجی گورے آپس میں ڈیل بلیڈی قسم کی گفتگو کرتے ہوئے درجے میں گھس آنے ان کو دیکھنا تھا
کہ سکینڈ کلاس میں سفر کا شوق رفو چکر ہوگیا، اور اپنا سوٹ کیس گھسیٹا میں بھاگا اور نہایت کچھا کھچ بھرے ہوئے تھرڈ کلاس کے ڈبے میں آکر دم لیا یہاں دیکھا تو کئی سکھ داڑھیاں کھولے کھچے پہنے بیٹھے تھے، مگر ان میں سے ڈر کر دوجہ چھوڑ کر نہیں بھاگا، صرف ان سے ذرا فاصلہ پر بیٹھ گیا۔
ہاں تو ڈر سکوں سے بھی لگتا تھا اور انگریزوں سے ان سے زیادہ مگر انگریز تھے اور کوٹ پتلون پہنتے تھے، مگر میں ان سے ڈر کر درجہ چھوڑ کر نہیں بھاگا، صرف ان سے ذرا فاصلہ پر بیٹھ گیا۔
ہاں تو ڈرسکوں سے بھی لگتا تھا، اور انگریزوں سے ان سے زیادہ مگر انگریز، انگریز تھے اور کوٹ پتلون پہنتے تھے جو میں بھی پہننا چاہتا تھا مگر سکھو سے جوڈر لگتا تھا، وہ حقارت آمیز تھا، کتنے عجیب الخلقات تھے یہ سکھ جو مرد ہوکر بھی سر کے بال عورتوں کی طرح لمبے لمبے رکھتے تھے یہ اور بات ہے کہ انگریزی فیشن کی نقل میں سر کے بال چھوٹے کرائیں جائیں میں نے بال خوب بڑھا رکھے تھے، ہاکی فٹبال کھیلتے وقت بال ہوا میں اڑیں جیسے انگریزی کھلاڑیوں کے، ابا کہتے یہ کیا عورتوں کی طرح یٹے بڑھا رکھے ہیں، مگر ابا تو تھے پرانی دقیانوسی خیالات کے ان کی بات کون سنتا تھا ان کا بس چلتا تو سر پر استا چلوا کر بچپن میں بھی ہمارا چہرہوں پر داڑھیاں بند وادیتے ہاں اس پر یاد آیا کہ سکھوں کی عجیب الخلقت ہونے کی دوسری نشانی ان کی داڑھیاں تھیں، اور پھر داڑھی داڑھی میں بھی فرق ہوتا ہے، مثلا ابا کی داڑھی جونوکیلی اور چوندار تھی، مگر یہ بھی کیا کہ داڑھی کو کبھی قینچی لگے ہی نہیں، جھاڑ جھنکاڑ کی طرح بڑھتی رہے، بلکہ تیل اور دہی اور نہ جانے کیا کیا مل کر بڑھائی جائے، اور جب کئی فٹ لمبی ہوجائے تو اس میں کنگھی کی جائے، جیسے عورتوں سر کے بالوں میں کرتی ہے، عورتیں یا مجھ جیسے اسکول کے فیشن ایبل لڑکے، اس کے علاوہ داد جان کی داڑھی بھی کئی فٹ لمبی تھی اور وہ بھی اس میں کنگھی کرتے تھے مگر دادا جان کی بات اور تھی آخر وہ میرے دادا جان ٹہرے اور سکھ پھر سکھ تھے۔
میٹرک کرنے کے بعد مجھے پڑھنے کیلئے مسلم یونیورسٹی علیگڑھ بھیجا گیا، کالج میں جو پنجابی لڑکے پڑھتے تھے، ان کو ہم دہلی اور یورپی والے نیچ، جاہل اور اجڈ سمجھتے تھے، نہ بات کرنے کا سلیقہ، نہ کھانے پینے کی تمیز، تعصب و تمدن چھو نہیں گئے، گنوار لٹھ یہ بڑے بڑے لسی گلاس کے پینے والے بھلا کیوڑے دار فالودے اور لپٹن کی چائے کی لذت کیا جانیں، زبان نہایت ناشائستہ بات کریں تو معلوم ہو لڑ رہے ہیں، اسی تسی، ساڈے، تہادے، لاحولا ولاقوتھ میں ہمیشہ ان پنجابیوں سے کتراتا تھا، مگر خدا بھلا کرے ہمارے داڑن صاحب کا کہ انہوں نے ایک پنجابی کو میرے کمرہ میں جگہ دیدی میں نے سوچا چلو جب ساتھ رہنا ہی ہے، تو تھوڑی بہت حد تک دوستی ہی کرلی جائے کچھ دنوں میں کافی گاڑھی پنجابی کو میرے میں جگہ دیدی میں نے سوچا چلو جب ساتھ رہنا ہی ہے، تو تھوڑی بہت حد تک دوستی ہی کرلی جائے، کچھ دنوں میں کافی گاڑھی چھینے لگی اسکا نام غلام رسول تھا، روالپنڈی کا رہنے والا تھا کافی مزے دار آدمی تھا اور لطیفے خوب سناتا تھا۔
اب آپ کہیں گے ذکر شروع ہوا تھا سرادار صاحب کا یہ غلام رسول کہاں سے ٹپک مگر اصل میں غلام رسول کا اسی قچے سے قریبی تعلق ہے بات یہ ہے کہ وہ مجھے لطیفے سناتا تھا، وہ عام طور پر سکھوں کے بارے میں ہوتے تھے، جن کو سن سن کر مجھے پوری سکھ قوم کی عادت وخضائل ان کی نسلی خصوصیات اور اجتماعی کریکٹر کا بجوبی علم ہو گیا تھا، بقول غلام رسول کے سکھ تمام بے وقوف اور بدھو ہوتے ہیں، بارہ بجے تو ان کی عقل بالکل بند ہوجاتی ہے، اس کے شبوت میں کتنے ہی واقعات بیان کئے جاسکتے ہیں، مثلا، سردار جی دن کے بارہ بجے سائیکل پر سوار مرمت سر کے بال بازار سے گزرتے تھے چوراہے پر ایک سکھ کانسٹیبل نے روکا پوچھا تمہارے سائیکل کا لائٹ کہاں ہے، سائیکل سوار سردار جی گڑ گڑا کر بولے جمعدار صاحب ابھی بجھ گئی ہے گھر جلا کر تو چلا تھا، اس پر سپاہی نے چالان کرنے کی دھمکی دی، ایک راہ چلتے سفید داڑھی والے سردار جی نے بیچ بچاﺅ کرایا، چلو بھئی کوئی بات نہیں لائٹ بجھ گئی تو اب جلا لو،
اور اسی قسم کے سیکڑوں قصے غلام رسول کو یاد تھے اور نہیں جب وہ پنجابی مکالموں کے ساتھ سناتا تھ اتو سننےوالوں کے پیٹ میں بل پڑ جاتے تھے، اصل میں انکو سننے کا مزہ ہی پنجابی میں تھا سکھ نہ صرف بیوہ قوف اور بدھو بلکہ گندے تھے، جیسا ایک ثبوت تو غلام رسول نے یہ کہا کہ وہ بال نہیں منڈواتے تھے اس کے علاوہ بر خلاف ہم صاف ستھرے غازی مسلمانوں کے جوہر اٹھواڑے جمعے کے جمعے غسل کرتے ہیں یہ سکھ کچھا باندھ سب کے سامنے نل کے نیچے بیٹھ کر نہاتے تو روز ہیں مگر اپنے بالوں اور داڑھی میں نے جانے کیا کیا گندی اور غلط چیزیں ملتے ہیں،
مثلا وہی ویسے سر میں بھی لائم جیوس گلیسرین لگاتا ہوں جو کسی قدر گاڑھے گاڑھے دودھ سے مشابہ ہوتی ہے مگر اس کی بات اور ہے، وہ ولایت کی مشہور پرفریم فیکڑی سے نہایت خوبصورت شیشی میں آتی ہے اور دہی گندے سندے حلوائی کی دکان سے۔
خیر جی ہمیں دوسروں کے رہنے سہنے کے طریقوں سے کیا لینا مگر سکھون کا سب سے بڑا قصور تھا یہ لوگ اکھڑ پن بد تمیزی اور ماردھاڑ میں مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی جرات کرتے تھے، اب تو دنیا جانتی تھی کہ ایک اکیلا مسلمان دس ہندﺅں یا سکھوں پر بھاری ہوتا ہے، مگر پھر یہ سکھ مسلمانوں کے رعب کو نہیں مانتے تھے، کر پانین لڑکائے اکڑائے اکاکر مونچھوں پر بلکہ داڑھی پر بھی تاﺅ دیتے چکتے تھے، غلام رسول کہتا، ان کی ہیکڑی ایک دن ہم ایسی نکالیں گےکہ خالصہ یاد ہی تو کریں گے۔
کالج چھوڑے کئی سال گزر گئے طالبعلم سے میں کلرک اور کلرک سے ہیڈ کلرک بن گیا، علی گڑھ ہوسٹل چھوڑ کرنئی دہلی میں ایک سرکاری کواٹر میں رہنا سہنا اختیار کرلیا، شادی ہوگئی، بچے ہوگئے، مگر کتنی ہی مدت کے بعد غلام رسول کا وہ کہنا یاد آیا، جب ایک سردار صاحب میرے برابر کے کواٹر رہنے آئے، یہ رولپنڈی کے ضلع میں غلام رسول کی پیشنگوئی کے بمو صاحب سرداروں کی ہیکڑی اچھی طرح سے نکالی سے نکالی گئی تھی، مجاہدوں نے ان کا صفایا کردیا تھا، بے سور مابنتے تھے، کرپانیں لئے پھرتے تھے، بہادر مسلمانوں کے سامنے ان کی ایک نہ بنی ان کی داڑھیاں کر مونڈ کر ان مسلمان بنایا گیا تھا،
زبردستی ان کا ختنہ کیا تھا، ہندو پریس حسب عادت مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے لکھ رہا تھا کہ سکھ عورتوں اور بچوں کو بھی مسلمانوں نے قتل کیا ہے، حالانکہ یہ اسلامی روایات کے خلات ہے، کوئی مسلمان مجاہد کبھی کسی عورت یا بچے پر ہاتھ نہیں اٹھاتا رہیں اور بچوں کی لاشوں کی تصویریں جو چھاپی جا رہی تھیں، وہ یا تو جعلی تھیں، اور یا سکھوں نے مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے خود اپنی عورتوں اور بچوں کو قتل کیا ہوگا، رولپنڈی اور مغربی پنجاب کے مسلمانوں پر یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے ہندو اور سکھ لڑکیوں کو بھگایا، حالانکہ واقعہ صرف اتنا تھا کہ مسلمانوں کی جوانمردی کی دھاک بیٹھی ہے اور اگر نوجوان مسلمان پر ہندو اور سکھ لڑکیاں کو ہی لٹو ہوجائیں تو انکا قصور ہے، کہ وہ تبلیغ اسلام کے سلسلے میں ان لڑکیوں کو اپنی پناہ میں لے لیں ہاں تو سکھوں کی نام نہاد بہادری کا بھانڈہ پھوٹ گیا تھا، بھلا اب تو ماسٹر تارا سنگھ لاہور میں کرپان نکال کر مسلمانوں کو دھمکیاں دے پنڈی سے بھاگے ہوئے سردار ان کی خستہ حالی کو دیکھ کر میرا سینہ عظمت اسلام کی روح سے بھر گیا، ہمارے پڑوسی سردار جی کی عمر کوئی ساٹھ برس کی ہوگی، داڑھی بالکل سفید ہوچکی تھی، حالانکہ موت کے منہ سےبچ کر آئے تھے مگر یہ حضرت ہر وقت دانت نکالے ہنستے رہتے تھے، جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا، کہ وہ دراصک کتنا بیوقوف اور بے حس ہے شروع شروع میں انہوں نے مجھے اپنی دوستی کے جال میں پھنسانا چاہا، آتے جاتے زبردستی باتیں کرتے، شروع کردیں نہ جانے سکھوں کا کونسا تہوار تھا اس پر شاد کی مٹھائی بھی بھیجی جو میری بیوی نے فورا مہترانی کو دیدی، پر میں نے زیادہ منہ نہ لگایا، کوئی بات ہوئی سوکھا سا جواب دیدیا اور بس جانتا تھا کہ سیدھے منہ دو چار باتیں کرلیں تو یہ پیچھے ہی پڑجائیگا، آج باتیں تو کل گالم گلفتار، گالیاں تو آپ جانتے ہی ہیں سکھوں کی دال روٹی ہوتی ہے، کون اپنی زبان گندی کرے ایسے لوگوں سے تعلقات بڑھا کر، وہاں ایک اتوار کی دوپہر کو میں اپنی بیوی کو سکھوں کی حماقت کے قصے سنا رہا تھا اور اس کا عملی ثبوت دینے کیلئے دینے بارہ بجے میں نے اپنے نوکروں کو سردار جی کے ہاں بھیجا کہ پوچھ آئے کیا بجا ہے، انہوں کہوادیا بارہ بجکر دو منٹ ہوئے ہیں، میں نے کہا بارہ بجے کا نام لیتے گھبراتے ہیں، یہ اور اہم خوب ہسنے، اس کے بعد میں نے کئی بار بیوقوف بنانے کیلئے سردار جی سے پوچھا، کیوں سردار جی بارہ بج گئے، گویا بڑا مذاق ہوا، مجھے زیادہ ڈر بچوں کی طرف سے تھا، اول تو کیس سکھ کا اعتبار نہیں، کب بچے کے گلے پر کر پان چلا دے، پھر یہ لوگ روالپنڈی سے آئے تھے، ضرور دل میںمسلمانوں کیلئے کینہ رکھتے ہوں گے، اور انتقام لینے کی تاک میں ہوں گے، میں نےبیوی کو تاکید کردی تھی، کہ بچے ہر گز سر دار جی کے کوارٹر کی طرف نہ جانے دئیے جائیں،
پر بچے تو بچے ہی ہوتے ہے، چند روز کے بعد میں نے دیکھا کہ سردار کی چھوٹی لڑکی موہنی اور انکے پاتوں کیساتھ کھیل رہے ہیں، یہ بچی جس کی عمر مشکل سے دس برس ہوگی سچ مچ موہنی ہی تھی، گور چٹی، اچھا ناک نقشہ، بڑی خوبصورت کم بختوں کی عورتین کافی خوبصورت ہوتی ہیں، مجھے یاد آیا، کہ غلام رسول نےکہا تھا، کہ اگر پنجاب سے سکھ مرد چلے جائیں اور اپنی عورتوں کو چھوڑ جائیں تو پھر حوروں کی تلاش میں جانے کی ضرورت نہیں، ہاں تو جب میں نے بچوں کو سردار جی کے بچوں کے ساتھ کھیلتے تو میں ان کو گھسٹیتا ہوا اندر لے گیا، اور خوب پٹائی کی، پھر میرے سامنے کم از کم ان کی ہمت نہ ہوئی کہ ادھر کا رخ کریں۔
بہت جلد سکھوں کی اصلیت پوری ظاہر ہوگئی، روالپنڈی سے تو ڈرپوکو کی طرح پٹ کر بھاگ آئے تھے، پر مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کو اقلیت میں پاکر ان پر ظلم ڈھانا شروع کردیا، ہزاروں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کو جام شہادت پینا پڑا، اسلامی خون کی ندیاں بہہ گئیں، ہزاروں عورتوں کو برہنہ کرکے جلوس نکالاگیا، جب سے مغربی پنجاب سے بھاگے ہوئے سکھ اتنی بڑی تعداد میں دہلی میں آنے شروع ہوئے تھے، اس کا وبا کا یہاں تک پہنچا یقینی ہوگیا تھا، میرے پاکستان جانے میں ابھی چند ہفتے کی دیر تھی
اس لئے میں نے اپنے بڑے بھائی کیساتھ اپنے بیوی بچوں کو تو ہوائی جہاز سے کراچی بھیج دیا، ورکو خدا پر بھروسہ کرکے ٹہرارہا، ہوائی جہاز میں سامان تو زیادہ نہیں جاسکتا تھا، اسلئے میں نے ایک پوری ویگن بک کرالی، مگر جس دن سامان چڑھانے والے تھا، اس دن سنا کہ پاکستان جانے والی گاڑیوں حملے ہورہے ہیں، اسلئیے سامان گھر میں ہی پڑا رہا۔
پندہ اگست کو آزادی کا جشن منایا گیا، مگر مجھے آزادی میں کیا دلچسپی تھی، می نے چھٹی منائی اور دن بھر لیٹا ڈان اور پاکستان ٹائمز کا مطالعہ کرتا رہا دونوں میں نام نہاد آزادی کے چھیٹے اڑائے گئے تھے اور ثابت کیا گیا تھا کہ کس طرح ہندﺅں اور انگریزوں نے مل کر مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کی سازش کی تھی، وہ تو ہمارے قائد اعظم کا اعجاز تھا، کہ پاکستان لیکر ہی رہے، اگر چہ انگریزوں نے ہندﺅں اور سکھوں کے دباﺅں میں آکر امرتسر کو ہندوستان کے حوالے کردیا، حالانکہ دنیا جانتی ہے، کہ امرتسر خالص اسلامی شہر ہے اور یہاں کی سنہری مسجد کے نام سے مشہور ہے، نہیں وہتو گوردوارہ ہے، کہلاتا ہے،
سنہری مسجد تو دہلی میں ہے، سنہری مسجد ہی نہیں جامع مسجد بھی لال قلعہ ہے، نظام الدین اولیا کا مزار ہمایوں کا مقبرہ صفدر جنگ کا مدرسہ گرض چپے چپے پر اسلامی حکومت کے نشان پائے جاتے ہیں، پھر بھی آج اسی دہلی بلکہ کہنا چاہئیے شاہجہان آباد پر ہندو سامراج کا جھنڈ بلند کیا جارہا تھا، رولے اب دل کھول کر اے دیدہ خونبار اور یہ سوچ کر میرا دل بھر آیا کہ دہلی جو مسلمانوں کا پایہ تخت تھا، تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھا ہم سے چھین لیا تھا اور ہمیں مغربی پنجاب اور سندھ بلوچستان وغیرہ جیسے اجڈ اور غیر متمدن علاقوں میں زبر
_________________ "When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
 |
|
| Fri Dec 14, 2007 6:43 pm |
|
 |
askari.z55
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007 Posts: 1505
|
|
| |
|
اور ہمیں مغربی پنجاب اور سندھ بلوچستان وغیرہ جیسے اجڈ اور غیر متمدن علاقوں میں زبردسی بھیجا جا رہا تھا، جہاں کسی کو شتہ اردو زبان بھی بولنا نہیں آتی، جہاں شلوارین جیسا مضحکہ خیز لباس پہنا جاتا ہے، جہاں ہلکی پہلکی پاﺅ بھر میں بیس بیس چپاتیوں کے بجائے دو دوسیر کی نانیں کھائی جاتی ہیں پھر میں نے اپنے دل کو مضبوط کرکے سمجھایا کہ قائد اعظم اور پاکستان جانے میں دیر کی تھی ابھی گول۔
مارکیٹ کے پاس پہنچا ہی تھا دفتر کا ایک ہندو بابو ملا نے کہا یہ کیا کرہے ہو واپس جاﺅ، باہر نہ نکلنا، کناٹ پیس میں بلوائی مسلمانوں کو مار رہے ہیں، میں واپس بھاگ آیا۔
انے اسکوائر میں پہنچا ہی تھا کہ سردار جی سے مد بھیڑ ہوگئی، کہنے لگے شیخ جی فکر نہ کرنا جب تک ہم سلامت ہیں تمہیں کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا، میں نےسوچا اس کی داڑھی کے یچھے کتان مکر چھپا ہوا ہے دل میں خوشی ہے چلو اچھا ہوا مسلمانوں کا صفایا ہو رہا ہے، مگر زبانی ہمدری جتا کر مجھ پر احسان کر رہا ہے، بلکہ شاید مجھے چڑانے کیلئے یہ کہہ رہا ہے کیونکہ سارے اسکوائر میں بلکہ اس سڑ ک پر میں تن تہنا مسلمان تھا، مجھے ان کافروں کا رحم و کرم نہیں چاہیے، میں سوچ کر اپنے کوارٹر میں آگیا، میں مارا بھی جاﺅ گا تو دس بیس کو مار کر سیدھا اپنے کمرے میں گیا جہاں پلنگ کے نیچے میری دو نالی بندوق رکھی تھی،
جب سے فساد شروع ہوئے تھے، میں نے کارتوس اور گولیوں کا بھی کافی ذجیرہ جمع کر رکھا تھا، پر وہاں بندوق نہ ملی سارا گھر چھان مارا اس کا کہیں پتہ نہیں چلا۔
کیوں حضور کیا ڈھونڈ رہے ہیں آپ؟ یہ میرا وفا دار ملازم تھا، میری بندوق کا کیا ہوا ؟ میں نے پوچھا۔
اس نے کوئی جواب نہیں دیا، مگر اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ اسے معلوم ہے ، شاید اس نے کہیں چھائی ہے یا چرائی ہے، بولتا کیوں نہیں میں نے ڈانٹ کر پوچھا، تب حقیقت معلوم ہوئی کہ ممدو نے میری بندوق چرا کر اپنے چند دوستوں کو دے دی تھی، جو دریا گنج میں مسلمانوں کی حفاظت کیلئے ہتھیاروں کا ذخیرہ جمع کر رہے تھے، کئی سو بندوقیں ہیں سرکار ہمارے پاس سات مشین گن، دس ریوالور اور ایک توپ کافروں کو بھون کر رکھ دیں، بھون کر۔
میں نےکہا دریا گنج میں میری بندوق سے کافروں کو بھون دیا گیا تو اس میں میری حفاظت کیسے ہوگی، میں تو یہاں نہتا کافروں کے نرغے میں پھنسا ہوا ہوں، یہاں مجھے بھون دیا گیا تو کون ذمے دار ہوگا؟ میں نے ممدو سے کہا۔
پھر یہ طےہوا کہ وہ دریا گنج جائے اور میری بندوق اور سودا کار توس لے آئے وہ چلا گیا مگر مجھے یقین تھا کہ وہ اب لوٹ کر نہیں آئے گا، اب میں گھر میں بالکل اکیلا تھا، سامنے کارنس پر میری بیوی اور بچوں کی تصویر خاموشی سے مجھے گھور رہی تھی، یہ سوچ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے، کہ اب ان سے کبھی ملاقات ہوگی بھی یا نہیں، لیکن پھر یہ خیال کرکے اطمینان بھی ہوا کہ کم سے کم وہ خریت سے پاکستان پہنچ گئے تھے، کاش میں نے پرویڈیٹ فنڈ کا لالچ نہ کیا ہوا، اور پہلے ہی چلا گیا ہوتا، پر اب پچھتانے سے کیا ہوتا ہے۔
سست سری اکال۔۔۔ہر ہر مہادیو دور سے آوازیں آرہی تھی، اور میری موت قریب آرہی تھی، اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی، سردار جی داخل ہوئے شیخ جی تم ہمارے کوارٹر میں آجاﺅ جلدی کرو بغیر سوچے سمجھے اگلے لمحے میں سردار جی کے برآمدے کی چکوں کے پیچھے تھا، موت کی گولی سن سے میرے سر پر سے گزرگئی، کیونکہ میں ہوہاں داخل ہی ہوا تھا کہ ایک لاری آکر رکی اور اس میں سے دس پندرہ نوجوان اترے، ان کے لیڈر کےہاتھ مین ایک ٹائپ کی ہوئی فہرست تھی، کوارٹر نمبر 8 شیخ برہان الدین اس نے کاغذ پر نظر ڈالتے ہوئے حکم دیا، اور یہ غول کا غول میرے کواٹر میں ٹوٹ پڑے میر گرہستی کی دنیا میری آنکھوں کے سامنے اجڑ گئی، لت گئی کرسیاں، میزیں، صندوق، تصویریں، کتابیں دریاں قالین، یہاں تک کہ یہ میلے کپڑے ہر چیز لاری میں پہنچا دی گئی۔
ڈاکو۔۔۔۔۔۔
لٹیرے۔۔۔۔۔۔
قزاق۔۔۔۔۔
اور یہ سردار جی جو ظاہر ہمدردی جتا کر مجھے یہاں لے آئے تھے، یہ کون سےکم لٹیرے تھے، باہر جاکر بلوائیوں سےکہنے لگے، ٹھرئیے صاحب اس گھر پر ہمارا حق زیادہ ہے، ہمیں بھی اس لوٹ میں سے حصہ ملنا چاہئیے، اور یہ کہہ کر انہوں نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو اشارہ کیا، اور وہ بھی لوٹ میں شامل ہوگئے کوئی میری پتلون اٹھائے چلا آرہا تھا، کوئی سوٹ کیس، کوئی میری بیوی اور بچوں کی تصوریریں بھی لارہا تھا، اور یہ سب مال غنیمت سیدھا انسر کے کمرے میں جا رہا تھا، اچھا رے سردار زندہ رہا تو تجھ سے بھی سمجھوں گا پر اس وقت میں چوں بھی نہیں کرسکتا تھا، کیوں کہ فسادی جو سب کے سب مصلح تھے، مجھے سے چند گز کے فاصلے پر تھے، اگر نہیں کہیں معلوم ہوگیا کہ میں یہاں ہو، ارے اندر آﺅ جی تسی۔
دفعتا میں نے دیکھا کہ سردار جی ننگے پان ہاتھ میں لئے مجھے اندر بلا رہے ہیں میں ایک بار اس دڑھیل چہرے کو دیکھا جو لوٹ مارکی بھاگ دوڑ سے اور بھی خوفناک ہوگیا، اور پھر کرپان کو جس کی چمکیلی دھار مجھے دعوت موت دے ری تھی، بحث کرنے کا موقع نہیں تھا۔
اگر میں کچھ بھی بولا اور بلوائیوں نے سن لیا تو ایک گولی میرے سینے کے پار ہوگی، کرپان اور بندرق میں سے ایک کو پسند کرنا تھا، میں نے سوچا ان دس بندوق باز بلوائیوں سے کرپان والا بڈھا بہتر ہے، میں کمرے میں چلا گیا جھجکتا ہوا خاموش، اچھے جی اوس اند آﺅ۔
میں اور اندر کے کمرے میں چلا گیا، جیسے بکرا قصائی کے ساتھ ذبح خانے میں داجل ہوتا ہے میری آنکھیں کر پان کی دھار سے چندہاتی جارہی تھی، یہ لوجی اپنی چیزیں سنبھال لو، یہ کہہ کر سردار جی نے وہ تمام سامان میرے سامنے رکھ دیا، جو انہوں نے ان کے بچوں نے جھوٹ موٹ کی لوٹ میں حاصل کیا تھا، سردارنی بولیں، بیٹا ہم تو تیرا کچھ بھی سامان نہیں بچا سکے، میں کوئی جواب نہ دے سکا، اتنے میں باہر سے کچھ آوازیں سنائی دیں، بلوائی لونے کی الماری کو باہر نکال رہے تھے اور اس کو توڑنے کی کوشش کررہے تھے، اس کی چابیاں مل جاتیں تو سب معاملہ آسان ہوجاتا، چابیاں تو اس کی پاکستان میں ملیں گی، بھاگ گیانا ڈر پوک کہیں کا مسلمان کا بچہ تھا تو مقابلہ کرنا، نھنی موہنی میری بیوی کے چند ریشمی قمیش اور غرارے نے جانے کس سے چھین کر لا رہی تھی، کہ اس نے یہ سنا وہ بولی تم بڑے بہادر ہو شیخ جی ڈر پوک کیوں ہونے لگے وہ تو کوئی بھی پاکستان نہیں گئے، گیا تو یہاں سے کیوں منہ کالا کر گیا، منہ کالا کیوں کرتے وہ تو ہمارے ہاں۔۔۔۔۔
میرے دل کی حرکت ایک لمحے کیلئے رک گئی، بچی اپنی غلطی کا احساس کرتے ہی خاموش ہوگئی، مگر ان بلوائیوں کیلئے یہی کافی تھا، سردار جی پر جیسے خون سوار ہوگیا تھا، انہوں نے مجھے اندر کمرے میں بند کرکے کنڈی لگادی اور اپنے بیٹے کے ہاتھ میں کرپان دی اور خود بارہ نکل گئے، باہر کیا ہوا مجھے ٹھیک طرح سے معلوم نہ ہوا تھپڑوں کی آوازیں پھر موہنی کی رونے کی آواز، اور اس کے بعد سردار جی آواز، پنجابی میں گالیاں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا،
کہ کسے گالیاں دے رہے ہیں، اور کیوں، میں چاروں طرف سے بند تھا اس لئے ٹھیک سنائی نہیں دیتا تھا، اور پھر گولی چلنےکی آواز اور سر دارنی کی چیخ لاری روانہ ہونے کی کڑ کڑاہٹ اور تمام اسکوائر پر جیسے سناٹا چھا گیا ہو، جب مجھے کمرے کی قید سے نکالا گیا تو سردار جی پلنگ پر پڑے تھے، اور ان کے سینے کے قریب سفید قمیض خون سے سرخ ہو رہی تھی، ان کا لڑکا ہماسائے کے گھر سے ڈاکڑ کو فون کر رہا تھا، سردار جی یہ تم نے کیا کیا؟ میری زبان سے نہ جانے یہ الفاظ کیسے نکلے مہبوت تھا، میری برسوں کی دنیا، خیالات، محسوسات، تعصبات کی دنیا کھنڈر ہوچکی ہے، سردار جی یہ تم نے کیا کیا؟
مجھ پر کرجہ اتار نا تھا بیٹا۔
قرضہ۔
ہاں راولپنڈی میں تمہارے جیسے مسلمان نے اپنی جان دے کر میری اور میرے گھر والوں کی جان اور اجت بچائی تھی، کیا نام تھا اس کا سردار جی؟
غلام رسول
غلام رسول
غلام رسول اور مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے میرے ساتھ قسمے نے دھوکا کیا ہو۔
دیوار پر لٹکے ہوئے گھنٹے نے بارہ بجانے شروع کئے ایک دو تین چار پانچ۔۔۔۔
سردار جی کی نگاہیں گھنٹے کی طرف گئیں، جیسے مسکرارہے ہوں اور مجھے اپنے داد یاد آئے،جن کی کئی فٹ لمبی داڑھی تھی، سردار جی کی شکل ان سے کتنی ملتی تھی، چھ سات آٹھ نو۔
جیسے وہ ہنس رہے ہوں ان کی سفید داڑھی اور سر کے کھلے ہوئے بالوں نے چہرے کے گرد ایک نوارانی بالہ سا بنایا ہوا تھا، دس گیارہ بارہ جیسے وہ کہہ رہے ہوں جی اساں دے ہاں تو 24 گھنٹے بارہ بجے رہتے ہیں، اورپھر میرے کانوں میں غلام رسول کی آواز سے بہت دور آئی، میں کہتا تھا، کہ بارہ بجے ان سکھو کی عقل غائب ہوجاتی ہے، اور کوئی نہ کوئی حماقت کر بیٹھتے ہیں، اب ان سردار جی کو دیکھو نا، ایک مسلمان کی خاطر اپنی جان دے دی۔
پر یہ سردار جی مرے نہیں تھے، میں مرا تھا۔
_________________ "When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
 |
|
| Fri Dec 14, 2007 6:59 pm |
|
 |
shakeelmscw
Shayari Moderator


Joined: 22 Aug 2007 Posts: 5187 Location: United Arab Emirates |
|
| |
|
Very nice story askari
_________________ *(`'·.¸(`'·.¸*¤*¸.·'´)¸.·'´)*
«´¨`·.Shakeel Ahmed ..·´¨`»
*(¸.·'´(¸.·'´*¤*`'·.¸)`'·.¸)*
(((**A happy person is not a person in a certain set of circumstances, but rather a person with a certain set of attitudes**)) |
|
| Tue Dec 25, 2007 11:48 pm |
|
 |
Suleman Shah
Full PK Member


Joined: 30 Nov 2007 Posts: 211 Location: Chakdara, District Dir, Nwfp Pakistan! |
|
| | |