Forum Pakistan - Pakistani Forums
Pakistani forum, where you can discuss freely on all issues from khabrain, muqabaley, cricket, khail, film, dramay, shair shaery, safar, batein, muhabat kay qissay, warzish, sehat, rozee, akhbar, siasat, naukary ghar pyaar dokan aur karobar gupshup.
|
|
|
| Author |
Message |
|
|
askari.z55
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007 Posts: 1511
|
|
| Or Duniya Badal Gayi: |
|
اور دنیا بدل گئ
راولپور کے نواح میں ایک چھوٹا سا گاؤں جھونکاوالی کے نام سے مشہور ہے۔ 1943 میں اس گاؤں کی آبادی پندرہ سو افراد پر مشتمل تھی۔ گاؤں کا جاگیردار رحمت داد وہاں کا نمبردار تھا اور باقی سارے لوگ اس کے مزارعے تھے۔ لوگوں کی اکثریت چونکہ مسلمان تھی اسلۓ سب سے بڑی عبادت گاہ وہاں پر جامع مسجد تھی۔ اس کے علاوہ گاؤں میں چار گھر ہندوؤں کے تھے اور دو سکھوں کے۔ انہوں نے اپنی اپنی عبادت کیلۓ وہاں پر مندر اور گردوارہ بھی بنا رکھا تھا۔ ہندو سود کا کاروبار کرتے تھے اور مزارعوں کی اکثریت ان کی قرض دار تھی۔ سکھ فوج میں ملازم تھے اور گاؤں میں صرف انہی کے گھر تھے جو جاگیردار کی غلامی سے بچے ہوۓ تھے۔ جامعہ مسجد کا امام صوفی غلام نبی اپنی شرافت اور نرم طبیعت کی وجہ سے مزارعوں کے بہت قریب تھا۔ مزارعے جب بھی کام سے فارغ ہوتے وہ مسجد آجاتے وہاں پر اپنے بچوںکیساتھ نماز بھی پڑھتے اور صوفی غلام نبی کے پاس بچوں کو قرآن پڑھنے بھی بھیجا کرتے تھے۔ جاگیردار بھی کبھی کبھار مسلمانی دکھانے کیلۓ مسجد کی طرف آنکلتا مگر اس کی گردن خدا کے سامنے جھکنے کے باوجود ہمیشہ اکڑی ہی رہتی۔
صوفی غلام نبی عام اماموں سے ذرا ہٹ کر تھا۔ وہ گاؤں والوں سے مانگے کی روٹی پر گزارہ کرنے کی بجاۓ جاگیردار کے کھیتوں میں دن کو کام کرتا تھا اور ساتھ ساتھ امامت بھی کرتا تھا۔ صوفی غلام نبی قرآن کا ترجمہ تفسیر، احادیث کی تشریح پر عبور رکھتا تھا اور اسے عربی زبان بھی آتی تھی۔ چند سال قبل وہ سعودی عرب حج کرنے گیا تو ایک دن مکہ سے مدینہ جاتے ہوۓ وہ راستہ بھول کر ایک گاؤں میں داخل ہوگیا۔ اس گاؤں کی مسجد کے امام نے اسے اپنے گھر پر مہمان ٹھرا لیا۔ عربی خدا ترس آدمی تھا، اسے غلام نبی کی پتہ نہیں کونسی ادا پسند آئی، اس نے اسے اپنی بیٹی کیساتھ شادی کی دعوت دے دی۔ غلام نبی جس نے اس کی بیٹی کو دیکھا تک نہیں تھا عربی کی مہمان نوازی سے مرعوب ہوکر اس شرط پر رشتہ منظور کرلیا کہ پہلے لڑکی سے پوچھا جاۓ کہ وہ پاکستان ميں رہنا پسند کرے گی کہ نہیں۔ لڑکی جس کی تربیت خالص اسلامی ماحول میں ہوئی تھی اپنے باپ کی خواہش کے آگے جھک گئی اور غلام نبی جو کنوارہ حج پر گیا تھا شادی شدہ حاجی بن کر گاؤں واپس لوٹا۔
امام کي بيوي ہروقت پردے ميں رہتي تھي اور اسے کسي مرد نے آج تک نہ ديکھا تھا۔ جاگيردار کا ايک ہي بيٹا تھا جو انہتائي اوباش تھا۔ گاؤں کي عورتوں نے امام کي بيوي کي خوبصورتي کے قصے سارے گاؤں ميں مشہور کرديۓ۔ چوہدري کے بيٹے کے دل ميں امام کي بيوي کي خوبصورتي کي باتوں نے تجسس پيدا کيا اور اس نے پلان بناياکہ جب امام کھيتوں ميں کام کرنے گيا ہوگا وہ اس کے گھر کي ميں گھس کر اس کي بيوي کو زبردستي ديکھ کر آۓ گا۔ ايک دن گرميوں ميں دوپہر کا وقت تھا اور لوگ کھيتوں ميں کام پر گۓ ہوۓ تھےچوہدري کے بيٹے نے امام کے گھر جانے کا ارادہ کرليا۔ اس نےجب امام کے گھر کا دروازہ مقفل پايا تو ديوار پھلانگنے کيلۓ ديوار پر چڑھ گيا۔ جونہي اس نے ديوار سے گھر کے اندر چھلانگ لگائي وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور دونوں ٹانگيں تڑوا بيٹھا۔ گاؤں والوں نے اس کرني کو خدا کا عذاب جانا اور وہ امام کي بيوي کو اس کي پاکدامني کي بدولت اس مصيبت سے نجات کي وجہ سے پہنچي ہوئي بزرگ ماننے لگے۔
غلام نبی کی شادی ہوۓ دس سال ہوچکے تھے مگر وہ ابھی تک اولادِ نرینہ سے محروم تھا۔ ایک دن ایک بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا اور اس نے مسجد میں نماز پڑھی۔ امام غلام نبی سے اس کی علیک سلیک ہوئی اور غلام نبی نے اس کی بزرگی سے متاثر ہوکر اسے چند روز کیلۓ مسجد میں مہمان رکھ لیا۔ بزرگ جتنے دن بھی وہاں پر رہا دن رات عبادت ہی کرتا رہا۔ اس نے جاتے ہوۓ امام غلام نبی کی خدمت کے صلے میں اسے دعا دی کہ خدا اسے سات بیٹے دے۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ بزرگ کو وہاں سے گۓ ہوۓ ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا کہ خدا نے اسے اولاد کی امید لگا دی۔ چودہ اگست 1947 کو جب پاکستان بننے کی خوشي میں دوسرے علاقوں کی طرح جھونکا والی میں بھی لوگ جشن منارہے تھے تب امام غلام نبی کو خدا نے پہلی اولاد سے نوازا اور اس نے اپنے بیٹے کا نام اپنے قائد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلۓ محمد علی رکھا۔
_________________ "When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
 |
|
| Fri Dec 28, 2007 8:02 pm |
|
 |
askari.z55
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007 Posts: 1511
|
|
| |
|
جھونکا والی میں امام کی مداخلت سے بچے کھچے ہندوؤں اور سکھوں کو بحفاظت ہجرت کرنے کی اجازت دے دی گئ اور وہ لوگ ہندوستان منتقل ہوگۓ۔ ہندوؤں نے اس کے صلے میں امام غلام نبی کو بہت ساری رقم اور زیورات انعام میں دیۓ جن کی اس نے جاگیردار کو خبر تک نہ ہونے دی اور وہ یہ رقم لے کر خود بھی لاہور منتقل ہوگیا۔
وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا اور امام غلام نبی جو اب لاہور میں ایک مسجد کا امام تھا حکومتوں کے اتار چڑھاؤ دیکھتا رہا۔ اس دوران خدا نے اسے سات بیٹوں سے نوازا۔ اس کثرتِ اولاد کی وجہ سے بعد میں اس نے مسجد کی امامت چھوڑ دی اور اپنی اولاد کی پرورش اپنی عربی بیوی کے ساتھ ملکر کرنے لگا۔ اس نے سب بچوں کو لاہور کے ماڈرن سکولوں میں داخل کرادیا اور ساتھ ساتھ گھر پر دونوں میاں بیوی بچوں کو اسلامی تربیت دیتے رہے۔ امام غلام نبی بچوں کو اسلامی تربیت کیساتھ ساتھ زمانے کی اونچ نیچ سے بھی آگاہ کرتا رہا۔ وہ لیاقت علی خان سے لیکر ایوب خان تک کا ہنگامہ خیز دور دیکھ دیکھ کر حیران ہوتا رہتا اور خدا سے ایک ہی سوال کرتا کہ اے خدا مسلمانوں کے حکمران کب اپنی رعایا کا خیال کریں گے۔
پتہ نہیں یہ ایچی سن کالج کے ماحول کا اثر تھا یا امام غلام نبی کی تربیت میں کوئی کمی رہ گئ تھی جو اس کا بڑا بیٹا محمد علی اپنے باپ کی دولت کے بل بوتے پر ایک ماڈرن کلچر میں پروان چڑھنے لگا۔ حالانکہ وہ پانچ وقت کا نمازی تھا اور ان نے ناظرہ کیستھ قرآن پڑھ رکھا تھا اور حافظ بھی تھا۔ پتہ نہیں اس کو کیا سوجھی کہ وہ مزہب سے بیزار ہونے لگا۔ اس نے مزہب کو پیچھے چھوڑا اور جدت پسندی کی طرف مائل ہوگیا۔ کبھی کبھار اس کا باپ دیکھتا کہ محمد علی رات کو اٹھ کر نماز پڑھ لیتا ہے مگر غلام نبی نے اسے بیٹے کا دکھاوا سمجھا اور وہ اس کی اپنے مزہب کی طرف واپسی کی طرف دعائیں کرنے لگا۔ غلام نبی نے اپنے پہلے بیٹے کی تربیت میں جو جو کمی چھوڑی تھی اور جس کو وہ بڑے بیٹۓ کی بےراہ روی کا ذمہ دار سمجھتا تھا وہ اس کا تجزیہ کرتا اور پھر دوسرے بیٹوں کی اس سے بھی اچھی تربیت کرنا شروع کردیتا۔
۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ پہلے بیٹے کے پٹڑی سے اترنے کے باوجود اس نے خدا پر مکمل بھروسہ رکھتے ہوۓ باقی بیٹوں کو بھی ایچی سن میں ہی پڑھانا جاری رکھا۔
جب محمد علی نے میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا تو سب گھر کی مخالفت کے باوجود اس نے آرمی میں جانے کا ارادہ کرلیا۔ اس نے آئی ایس ایس بی کا امتحان پاس کیا اور کاکول اکیڈمی ٹریننگ کیلۓ پہنچ گیا۔ امام غلام نبی نے اپنے بیٹے کی بے راہ روی کے باوجود اس سے ناطہ نہ توڑا بلکہ وہ اپنی بیوی اور دوسرے بیٹوں کیساتھ تواتر سے اسے ملنے کاکول اکیڈمی جاتا رہا۔ محمد علی نے اکیڈمی کے پہلے سال اول پوزیشن حاصل کی اور اس کا ماڈرن ازم اس کے افسروں کی نظروں میں اس کیلۓ ایک اثاثہ ثابت ہوا۔ اس کے استادوں نے اس کی مزہب سے بیگانگی اور ماڈرن خیالات کو خوب ہوا دی اور محمد علی اس خوبی کی بنا پر ہرادبی اور کھیلوں کے مقابلے جیتتا رہا۔ اس نے اپنے اساتزہ کیساتھ میل جول اپنے ساتھیوں کی نسبت زیادہ رکھا کیونکہ وہ جان گیا تھا کہ ترقی کا یہی ایک زینہ ہے۔ صرف قابلیت آدمی کو معراج تک نہیں پہنچاتی بلکہ اچھے تعلقات قابلیت کو مزید چار چاند لگانے کیلۓ ضروری ہوتے ہیں۔ محمد علی کھلنڈرے ساتھیوں کیساتھ ملکر دنیا جہان کی مستیاں کرتا رہا۔ اس کا چوری چھپے کاکول سے راتوں کو بھاگ کر فلم دیکھنا،جوا کھیلنا اور شرطیں لگانا معمول بن گیا تھا۔ چونکہ وہ اپنے اساتذہ کی گڈ بک میں تھا اور اس کے اساتذہ جانتے تھے کہ وہ اپنے بیج میں ٹاپ کرے گا اسلۓ بعض اوقات وہ اس کی کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیتے تھے۔
محمد علی کی شخصیت کا اپنے چھوٹے بھائی امجد علی پر اتنا گہرا تاثر تھا کہ وہ بھی اسی کے بہلاوے میں آکر اگلے سال کاکول اکیڈمی پہنچ گیا۔ امام غلام نبی نے پھر بھی اف تک نہ کی اور اپنی عبادت اور دعاؤں میں مزید اضافہ کردیا۔ امام غلام نبی کو یہ تو معلوم تھا کہ اس کے دونوں بڑۓ بیٹے اعتدال پسند اور روشن خیال ہیں مگر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ دونوں جوا بھی کھیلتے ہیں اور انگریزی فلمیں بھی دیکھتے ہیں۔
امام غلام نبی کو کاکول اکیڈمی سے چڑ ہوچکی تھی اور وہ ہر وقت یہی دائیں کرنے لگا کہ اس کے دوسرے بچے کاکول اکیڈمی میں نہ جائیں۔امام غلام نبی کی دعائیں رنگ لائیں اور اس کے تیسرے بیٹے مدد علی نے کاکول اکیڈمی میں جانے کی بجاۓ، وکالت کرنے کی ٹھان لی اور ایچی سن کالج سے ہی ایف اے کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ مدد علی مزہب سے اتنا بیگانہ نہیں ہوا تھا جتنے اس کے دونوں بڑے بھائی ہوگۓ تھے مگر اس نے اپنے باپ کی عالم بننے کی خواہش کو ٹھکرا دیا۔ امام غلام نبی نے جب تیسرا بیٹا بھی ہاتھ سے جاتا ہوا دیکھا تو اس نے سوچا شائد اس نے جو مال سکھوں اور ہندوؤں سے لیا تھا وہ جائز نہیں تھا اور اس کی بے برکتی کی وجہ سے اس کی اولاد اس کے ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے۔ اس نے اپنی بیوی کو اپنی سوچ سے آگاہ کیا اور ساری دولت سے چھٹکارا پانے کا تہیہ کرلیا۔
_________________ "When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
 |
|
| Fri Dec 28, 2007 8:04 pm |
|
 |
|
|
|