Forum Pakistan
New User? Register | Search | Memberlist | Log in
Forum Pakistan - Pakistani Forums
Pakistani forum, where you can discuss freely on all issues from khabrain, muqabaley, cricket, khail, film, dramay, shair shaery, safar, batein, muhabat kay qissay, warzish, sehat, rozee, akhbar, siasat, naukary ghar pyaar dokan aur karobar gupshup.
Watch TV OnlineLive RadioListen QuranAkhbarFree SMS PakistanResults OnlineUrdu Editor
Complaint CellUseful LinksJobsOnline GamesCheck EmailPromote usDonations
GEO News LiveDawn News Live TVExpress News
Shaadi Online
Forum Pakistan Awards 2008
DHA Islamabad Balloting Results
Data Entry Operator Jobs Islamabad
Shaadi Online
Muslims of the world

 
Reply to topic    Forum Pakistan - Pakistani Forums Home » Islam Forum
Muslims of the world
Author Message
askari.z55
Senior Proud Pakistani
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007
Posts: 1506

Muslims of the world
اوگانڈا میں مسلمانوں کی صورتحال

برہ اعظم افریقہ عیسايئ مشنریز کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور مشنریز افریقیوں کو عیسایئ بنانے کی غرض سے مسلسل سرگرم عمل ہیں البتہ پسماندگی غربت ناخواندگی جیسے عوامل نے بھی افریقی عوام کو تعلیم اور سہولتیں حاصل کر نے کے لۓ عیسایئ مشنریوں کا دست نگر بنادیا ہے۔

اوگانڈا میں عیسایئ مشنریاں کچھ زیادہ ہی سرگرم عمل ہیں اس ملک میں مشنریز کا مقصد مسلمانون کا تشخص ختم کرنا اور ان کی آبادی کا خاتمہ کرنا ہے ۔

اوگانڈا برہ اعظم افریقہ کے مشرق میں واقع ہے اسکی سرحدیں مشرق سے کینیا مغرب سے کانگو اور روانڈا شمال سے سوڈان اور جنوب سے تنزانیہ سے ملتی ہیں۔

اوگانڈا میں سب سے پہلے دین اسلام نے ترقی پايئ اور سارے ملک میں پھیل گیا عرب سوداگروں نے جو جزیرۃالعرب کے جنوبی علاقوں سے یہاں آۓ تھے اسلام کو پھیلانے میں اہم کردار اداکیا ہے اوگانڈا میں اٹھارہ سو ساٹھ میں اسلام کی آمد کے بعد بعض مقامی سرداروں اور بادشاہوں نے اسلام قبول کرلیا اسلام کی ترقی کا یہ سلسلہ جاری رہا یہانتک کہ انگریز سامراج نے اس ملک پر قبضہ کرلیا انیسویں صدی کی آخری دہایئ میں برطانیہ کے قبضے سے قبل اوگانڈا میں برطانوی پروٹسٹنٹ اور فرانسیسی کیتھو لک مشنریز موجود تھیں اور انہوں نے کسی حد تک اسلام اور مسلمین کو نقصان پہنچانے میں کامیابی حاصل کرلی تھی ۔ انیس سو ساٹھ میں اوگانڈا کو آزادی ملنے سےقبل اس ملک میں انگریزوں کی تعداد سات ھزار تھی جن میں سے ایک ھزار دو سو مبلغ تھے۔

اسلام کے خلاف سر گرمیاں

بڈھے سامراج نے اوگانڈا میں اسلامی تحریکوں اور اسلامی تبلیغات کو روکنے کے لۓ تمام ہتھکنڈوں سے استفادہ کیا بالخصوص مسلمالون کو تعلیم سے محروم رکھنے کے لۓ سارے سامراجی ہتھکنڈے استعمال کۓ اسی بنا پر مسلمانوں نے شمالی علاقوں میں پناہ لی۔

انگریزوں نے اسکے بعد ماکہ رہ رہ نامی یونیورسٹی قائم کی تاکہ خرطوم اور سوڈان کی یونیوسٹیوں سے مسلمانوں کا رابطہ کٹ جاۓ

ماکہ رہ رہ یونیورسٹی کا انتنظام یہودیوں اور عیسائیوں کے سپرد کر دیا گیا تاکہ مسلمانون کو پوری طرح سے متاثر کیا جاسکے ان مسلمان مخالف پالیسیوں میں کلیساؤں کی عالمی کونسل نے بنیادی رول ادا کیا ہے اسی کونسل کی مالی اعانت سے مسلمانوں کے دینی مدارس اور تعلیمی مراکز کی نابودی کا سامان فراہم کیا گیا۔

اوگانڈا کی آزادی سے پہلے یہودیوں کے اسکولوں کی تعداد دو سو بیاسی تھی لیکن آزادی کے بعد بھی مسلمانوں کے اسکولوں کی تعداد اٹھارہ سے آگے نہ بڑہ سکی آزادی کے بعد مسلمانوں پر مزید ظلم و ستم دھاۓ جانے لگے کیونکہ حکومت سامراج سے وابستہ تھی اور حکومت میں ایسے لوگ شامل تھے جو مکتب استعمار کے پروردہ تھے اور عیسايئ اداروں کے زیر نظر کام کیا کرتے تھے۔

عیدی امین

عیدی امین کے زمانے میں مسلمانون کو کچھ مدت کے لۓ چین کا سانس لینے کا موقع ملا لیکن صلیبی سامراج نے عیدی امین کے خلاف وسیع پروپگینڈا شروع کردیا تھا اور انس سو اناسی میں عیدی امین کا تختہ الٹ دیا گیا یاد رہے عیدی امین نے اوگانڈا کو اسلامی کانفرنس تنظیم میں رکنیت دلائی تھی ۔

عیدی امین کے بعد ان کے جانشین یوسف والی نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی لیکن کچھ مدت کے بعد ان کو بھی اقتدار سے ہٹادیا گیا ان کے بعد سامراج کے ایجنٹ جود فری بنیسا نے حکومت پر قبضہ کرلیا اس زمانے سے مسلمانون پر نئي مصیبتوں کا آغاز ہوتا ہے۔

تنزانیا کے صدر جولیس نایریرہ نے مسلمانوں اور عیدی امین کے حامیوں کا قتل عام کرنے کے لۓ اپنی فوجیں اوگنڈا بھیج دیں یہ نہیں معلوم ہوسکا ہے کہ تنزانیا کی فوج نے کتنے ہزار مسلمانوں کا قتل عام کیا لیکن کشت و خون کی اس گرم بازاری سے نجات پاکر سوڈان میں پناہ لینے والوں کی تعداد پچاس ہزار بتا‏ئي جاتی ہے۔

اوگانڈا میں مسلمانون کے خلاف سرگرمیاں بدستور جاری تھیں کہ لشکر خدا نامی چھاپہ ماروں نے شہر لیرہ کے شمال میں پناہ گزیں مسلمانوں پر حملہ کر کے ان کا قتل عام شروع کر دیا چھاپہ ماروں نے یہ حملہ گذشتہ فروری میں کیا تھا اور نھایت وحشیانہ طریقے سے سیکڑوں مسلمانوں کا قتل عام کیا ، اسکے علاوہ بارلوینا مہاجر کیمپ پر بھی چھاپہ ماورں نے حملہ کر کے سیکڑوں مسلمانوں کا قتل عام کیا اس قتل عام کے بارے میں ایک عیسائي پادری کا کہنا ہے کہ اس نے ایسا بھیانک قتل عام کبھی نہیں دیکھا ہے یہ سارے جرائم چھاپہ ماروں نے انجام دۓ ہیں جنہیں امریکہ کے انجیلی کلیساؤں کی حمایت حاصل ہے ۔


_________________
"When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
Sat Feb 02, 2008 1:23 pm View user's profile Send private message
askari.z55
Senior Proud Pakistani
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007
Posts: 1506

Reply with quote
برطانیہ کے مسلمان
برطانیہ میں مسلمانوں کی اکثریت برصغیر ھند سے تعلق رکھتی ہے برطانوی معاشرہ ایک طرف ماہر مہاجرین کا استقبال کرتا ہے لیکن عام تارکین وطن کو خوش آمدید نہیں کہتا۔

مغربی دنیا میں خواہ وہ برطانیہ ہو یا کوئی اور ملک مسلمان بری طرح سے توجہ کا مرکز بنے ہوۓ ہیں اسی بنا پر برطانوی مسلمان انگریزی تہذیب اپنانے کے حق میں ہیں گارڈین انسٹی ٹیوٹ کے سروے کے مطابق اس ملک کے مسلمانوں کے نزدیک گیارہ ستمبر کے بعد انگریزی ثقافت کی اھمیت بڑہ گئی ہے اور سڑسٹھ فیصد جوان مسلمانوں نے اس بات پر زور دیا ہے کیونکہ انہیں برطانوی نژاد کہا جاسکتا ہے ، اکتالیس فیصد نے کہا ہے کہ انہیں برطانوی معاشرے کے ساتھ ھماھنگ ہونے کے لۓ مزید کوشش کرنا ہوگی ۔

اسی طرح ایک اور ادارے کے سروے کے مطابق برطانوی مسلمان انگریز معاشرے میں ضم ہونے کی شدید خواہش رکھتے ہیں اس سروے سے پتہ چلا ہے کہ مسلمانوں کو ان کے دین اور نسل کی بناپر سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے شاید اسی امتیازی رویے کی بناپر مسلمانوں میں بے روزگاری کی شرح زیادہ ہے اور دیگر شہری سہولتیں بھی انہیں کم ہی میسر آتی ہیں ۔

برطانیہ میں مسلم کونسل کے سکرٹری اقبال شکرانیہ نے اس سروے کا خیر مقدم کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ مسلم معاشرہ اتحاد کی طرف گامزن ہو رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ سمجھنا ضروری ہے اتحاد سے کیا مراد ہے ؟ان کی نظر میں اتحاد سے مراد دوسروں کی نقل کرنا اور اپنی تھذیب و آداب کو فراموش کرکے اجنبی تھذیب اپنانا نہیں ہے بلکہ اتحاد کا مقصد انگریزی زبان کا سمجھنا عام اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنا معاشرے کے ساتھ چلنا اور دیگر ادیان کے پیرووں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ہے ۔

لیسٹر شہر کے مسلمان

لیسٹر شہر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی رہتی ہے یہاں تیس ہزار سے زائد مسلمان بستے ہیں جبکہ شہر کی آبادی تقریبا تین لاکھ ہے اس شہر میں مسلمان لڑکیوں کااسکول دیگر عام اسکولوں سے الگ ہے یہاں اسلام نے روحانی اور معنوی ‌فضا قائم کرر کھی ہے اس اسکول میں قرآن کی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور ماڈرن تعلیم کے ساتھ ساتھ ایمان کی روشنی بھی موجود ہے ۔

برطانیہ میں مسلمانوں کے خیراتی ادارے

برطانیہ میں مسلمانوں کے ایک ہزار سے زائد خیراتی ادارے اور تنظیمیں ہیں ان کی سالانہ آمدنی بیالیس ملین پونڈ بتائی جاتی ہے اس پیسہ کا بڑا حصہ غیر ملکی نادار افراد پر خرچ ہوتاہے جو جنگ قحط یا دیگر قدرتی آفات کا شکارہوتے ہیں۔

اسلامیک رلیف فاونڈیشن کی بنیاد انیس سو چوراسی میں رکھی گئی تھی یہ برطانیہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا خیراتی ادارہ ہے اس آمدنی پندرہ ملین پونڈ ہے جس میں سے پانچ ملین پونڈ برطانیہ میں خرچ کۓ جاتے ہیں اس ادارے کو عالمی ترقیاتی ادارے سے بھی فنڈ ملتے ہیں اس کی ترجیحات میں افغانستان فلسطین اور چیچنیا میں انسان دوستانہ امداد پہنچانا ہے۔

گيارہ ستمبر کے بعد خیراتی اداروں پر دھشت گردی کی حمایت کا الزام لگاکر ان کی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالنے اور انہیں بند کرنے کی کوشش کی گئي ،اسلامک رلیف فاونڈیشن پر دھشت گردوں کی مدد کرنے کے الزام میں چودہ مقدمے قائم کۓ گۓ ہیں لیکن اس کے باوجود بھی یہ الزام ثابت نہیں ہوسکا ہے ۔

برطانوی مسلمانوں کو شروع ہی سے سعودی عرب اور دیگر اسلامی ملکوں کی مالی امداد حاصل رہی ہے مثال کے طور پر سعودی عرب نے آکسفورڈ اسلامی مرکز کو نئی عمارت بنانے کے لۓ بیس ملین پونڈ کی مدد کی تھی اس کے لۓ شاہ فہد نے ایڈنبرہ کے مسلمانوں کو مسجد اور اسلامی مراکز تعمیر کرنے کے لۓ تین ملین پونڈ کی مدد کی تھی۔

برطانوی مسلمان ذرایع ابلاغ پر بھروسہ نہیں کرتے

برطانیہ میں اٹھارہ لاکھ مسلمان رھتے ہیں اور یہ ملک کی آبادی کا تین فیصد حصہ ہے مسلمانوں میں دین داروں کی سب سے زیادہ تعداد ہے انہیں ذرایع ابلاغ میں ان کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی نہیں ملتی ہے البتہ مسلمانوں کے تمام فرقوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کی تصویر مسخ کرکے پیش کی جاتی ہے۔

اقبال شکرانیہ برطانوی مسلمانوں کو درپیش مسائل کے بارے میں کہتے ہیں کہ برطانیہ میں ا سلام سے وحشت کی فصا نے مسلمانوں کے سامنے خاصی مشکلات کھڑی کردی ہیں اور مسلمان اپنے روایتی آداب و تشخص کی طرف بڑھتے ہوے گھبرانے لگے ہیں مسلمانوں کو احساس ہوچکا ہے کہ ان کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا جاتا۔

اگر برطانوی مسلمانوں سیاہ فام ہے تو اسے دیگر سیاہ فاموں کی طرح امتیازی سلوک کا شکار بنایا جاتا ہے اس ملک میں ہر جگہ جیسے ملازمتوں طبی سہولتوں اسکولوں اور دیگر اداروں میں امتیازی سلوک دیکھا جاسکتاہے ۔

لندن میں آپ کو ھندوستان پاکستان بنگلادیش کے علاوہ دنیا کے ہر ملک کا مسلمان دیکھنے کو مل جاے گا ۔

برطانیہ میں رجسٹرڈ مسجدوں کی تعداد پانچ سو چوراسی ہے اور مسلمانون کے چار سرکاری اسکول ہیں یہاں پاکستانی تارکین وطن کی تعداد سب سے زیادہ ہے اس کے بعد بنگلادیشی ھندوستانی مہاجروں کی تعداد ہے ۔


_________________
"When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
Sat Feb 02, 2008 1:24 pm View user's profile Send private message
askari.z55
Senior Proud Pakistani
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007
Posts: 1506

Reply with quote
تھائی لینڈ کے مسلمان


تھائی لینڈ کا پرانا نام سیام تھا یہ ملک جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ہے اکثر باشندے تائی نژاد اور بدھ مت کے پیرو ہیں اس ملک کا سرکاری مذھب بدھ مت ہے جبکہ مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں مسلمانوں کی تعداد کے صحیح اعداد و شمار نہیں ہیں بتا یا جاتا ہے مسلمان کل آبادی کا چھ سے پندرہ فیصد ہیں تھائی لینڈ کی حکو مت کے مطابق مسلمان چار فیصد ہیں ان میں اکثریت اہل سنت کی ہے اور شیعہ مسلمانوں کی آبادی ایک فیصد ہے ۔

1602 میں شیخ احمد قمی نامی ایرانی تاجر تھائی لینڈ پہنچے تھے اور وہیں پر سکونت اختیار کی اس کے بعد اس ملک میں عزاداری کا سلسلہ شروع ہواور آہستہ آہستہ شیعوں کی آبادی میں اضافہ ہونے لگا دو نسلوں کے بعد سیاسی حالات کی بنا پر ایرانی نژاد شخصیتیں حکومت میں اپنا مقام محفوظ رکھنے کے لۓ مذھب تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئيں اور انہوں نے بدھ مت اختیار کرلیا لیکن شیخ احمد قمی کی نسل کے دیگر افراد اپنے مذھب پر باقی رہے اور آیوتا چلے گۓ ۔

تھائیلینڈ میں اس وقت ڈھائی ھزار مسجدیں ہیں ان میں سے چارسو چونتیس مسجدیں ناراتیوات صوبے میں ہیں بتا یا جاتا ہے کہ بینک کاک میں ڈھائي سو مسجدیں ہیں مسجدوں کے علاوہ اس ملک میں مدرسے اور دیگر مذھبی ادارے بھی ہیں ان میں شیخ الاسلام کا ادارہ قابل ذکر ہے ان اداروں نے تھائي لینڈ میں اسلام کی ترویج میں اھم کردار ادا کیا ہے بدھ مت کی سرزمین تھائي لینڈ میں مسلمانون کے لۓ شیخ الاسلام کا منصب ہونا نہایت اہمیت رکھتا ہے اور مسلمانوں کے تعلق سے سلطنت کی توجھ کی علامت ہے ۔

اٹھارویں صدی میں جب مسلمانوں کی آبادی میں کچھ اضافہ ہوا تو اسی زمانے سے مسلمانوں نے اپنے بچوں کی دینی تعلیم کے لۓ دینی مدرسے قائم کرنا شروع کۓ اس وقت تھائی لینڈ میں پانچ سو دینی مدرسے ہیں ان مدرسوں میں صرف تین سو مدرسوں کا رجسٹریشن ہوپایا ہے ان مدرسوں میں بچوں کو دینیات کی تعلیم دی جاتی ہے حکومت نے ان مدرسوں کو نظام تعلیم سے ملحق نہیں کیا ہے دراصل حکومت ان مدرسوں کے خلاف ہے اور انہیں ملک کی تائي ثقافت کے سامنے رکاوٹ سمجھتی ہے اسی بناپر مختلف طرح سے ان مدرسوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنا چاہتی ہے ، حکومت نے ان مدرسوں کو وزارت تعلیم میں شامل کرکے طلبا کو اپنے طور پر تعلیم دینے کا بھی پرگرام بنا رکھا ہے اس صورت میں حکومت مدرسوں کی ڈکریوں کو سرکاری حیثیت دینے کو تیار ہے۔

تھائی لینڈ کے مسلمانوں میں اکثریت جنوبی صوبوں میں رھتی ہے یہ لوگ مالائي نژاد ہیں اور مالائي زبان ہی بولتے ہیں جو ملک کی زبان سے مختلف ہے یہ لوگ زبان اور ثقافت کے لحاظ سے ملیشیا کے عوام سے قریب ہیں ، اس کے علاوہ بقیہ دس فیصد مسلمان تھائی نژاد ہیں ان میں کچھ لوگ برمی نسل کے بھی ہیں ۔

تھائي لینڈ حکومت کی بعض نامناسب پالیسوں کی بنا پر مسلمان سخت غم و غصے میں مبتلا ہیں ان ہی غلط پالیسوں کی بنا پر جنوبی ریاستوں کے مسلمان علم بغاوت بلند کرنے پر مجبور ہوے اور علیحدگي پسند تنظیمیں بھی اسی وجھ سے وجود میں آئيں


_________________
"When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
Sat Feb 02, 2008 1:26 pm View user's profile Send private message
ugwaraich
Senior Proud Pakistani
Senior Proud Pakistani


Joined: 22 May 2007
Posts: 1475

Reply with quote
askari.z55 wrote:
برطانیہ کے مسلمان
برطانیہ میں مسلمانوں کی اکثریت برصغیر ھند سے تعلق رکھتی ہے برطانوی معاشرہ ایک طرف ماہر مہاجرین کا استقبال کرتا ہے لیکن عام تارکین وطن کو خوش آمدید نہیں کہتا۔

مغربی دنیا میں خواہ وہ برطانیہ ہو یا کوئی اور ملک مسلمان بری طرح سے توجہ کا مرکز بنے ہوۓ ہیں اسی بنا پر برطانوی مسلمان انگریزی تہذیب اپنانے کے حق میں ہیں گارڈین انسٹی ٹیوٹ کے سروے کے مطابق اس ملک کے مسلمانوں کے نزدیک گیارہ ستمبر کے بعد انگریزی ثقافت کی اھمیت بڑہ گئی ہے اور سڑسٹھ فیصد جوان مسلمانوں نے اس بات پر زور دیا ہے کیونکہ انہیں برطانوی نژاد کہا جاسکتا ہے ، اکتالیس فیصد نے کہا ہے کہ انہیں برطانوی معاشرے کے ساتھ ھماھنگ ہونے کے لۓ مزید کوشش کرنا ہوگی ۔

اسی طرح ایک اور ادارے کے سروے کے مطابق برطانوی مسلمان انگریز معاشرے میں ضم ہونے کی شدید خواہش رکھتے ہیں اس سروے سے پتہ چلا ہے کہ مسلمانوں کو ان کے دین اور نسل کی بناپر سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے شاید اسی امتیازی رویے کی بناپر مسلمانوں میں بے روزگاری کی شرح زیادہ ہے اور دیگر شہری سہولتیں بھی انہیں کم ہی میسر آتی ہیں ۔

برطانیہ میں مسلم کونسل کے سکرٹری اقبال شکرانیہ نے اس سروے کا خیر مقدم کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ مسلم معاشرہ اتحاد کی طرف گامزن ہو رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ سمجھنا ضروری ہے اتحاد سے کیا مراد ہے ؟ان کی نظر میں اتحاد سے مراد دوسروں کی نقل کرنا اور اپنی تھذیب و آداب کو فراموش کرکے اجنبی تھذیب اپنانا نہیں ہے بلکہ اتحاد کا مقصد انگریزی زبان کا سمجھنا عام اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنا معاشرے کے ساتھ چلنا اور دیگر ادیان کے پیرووں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ہے ۔

لیسٹر شہر کے مسلمان

لیسٹر شہر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی رہتی ہے یہاں تیس ہزار سے زائد مسلمان بستے ہیں جبکہ شہر کی آبادی تقریبا تین لاکھ ہے اس شہر میں مسلمان لڑکیوں کااسکول دیگر عام اسکولوں سے الگ ہے یہاں اسلام نے روحانی اور معنوی ‌فضا قائم کرر کھی ہے اس اسکول میں قرآن کی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور ماڈرن تعلیم کے ساتھ ساتھ ایمان کی روشنی بھی موجود ہے ۔

برطانیہ میں مسلمانوں کے خیراتی ادارے

برطانیہ میں مسلمانوں کے ایک ہزار سے زائد خیراتی ادارے اور تنظیمیں ہیں ان کی سالانہ آمدنی بیالیس ملین پونڈ بتائی جاتی ہے اس پیسہ کا بڑا حصہ غیر ملکی نادار افراد پر خرچ ہوتاہے جو جنگ قحط یا دیگر قدرتی آفات کا شکارہوتے ہیں۔

اسلامیک رلیف فاونڈیشن کی بنیاد انیس سو چوراسی میں رکھی گئی تھی یہ برطانیہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا خیراتی ادارہ ہے اس آمدنی پندرہ ملین پونڈ ہے جس میں سے پانچ ملین پونڈ برطانیہ میں خرچ کۓ جاتے ہیں اس ادارے کو عالمی ترقیاتی ادارے سے بھی فنڈ ملتے ہیں اس کی ترجیحات میں افغانستان فلسطین اور چیچنیا میں انسان دوستانہ امداد پہنچانا ہے۔

گيارہ ستمبر کے بعد خیراتی اداروں پر دھشت گردی کی حمایت کا الزام لگاکر ان کی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالنے اور انہیں بند کرنے کی کوشش کی گئي ،اسلامک رلیف فاونڈیشن پر دھشت گردوں کی مدد کرنے کے الزام میں چودہ مقدمے قائم کۓ گۓ ہیں لیکن اس کے باوجود بھی یہ الزام ثابت نہیں ہوسکا ہے ۔

برطانوی مسلمانوں کو شروع ہی سے سعودی عرب اور دیگر اسلامی ملکوں کی مالی امداد حاصل رہی ہے مثال کے طور پر سعودی عرب نے آکسفورڈ اسلامی مرکز کو نئی عمارت بنانے کے لۓ بیس ملین پونڈ کی مدد کی تھی اس کے لۓ شاہ فہد نے ایڈنبرہ کے مسلمانوں کو مسجد اور اسلامی مراکز تعمیر کرنے کے لۓ تین ملین پونڈ کی مدد کی تھی۔

برطانوی مسلمان ذرایع ابلاغ پر بھروسہ نہیں کرتے

برطانیہ میں اٹھارہ لاکھ مسلمان رھتے ہیں اور یہ ملک کی آبادی کا تین فیصد حصہ ہے مسلمانوں میں دین داروں کی سب سے زیادہ تعداد ہے انہیں ذرایع ابلاغ میں ان کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی نہیں ملتی ہے البتہ مسلمانوں کے تمام فرقوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کی تصویر مسخ کرکے پیش کی جاتی ہے۔

اقبال شکرانیہ برطانوی مسلمانوں کو درپیش مسائل کے بارے میں کہتے ہیں کہ برطانیہ میں ا سلام سے وحشت کی فصا نے مسلمانوں کے سامنے خاصی مشکلات کھڑی کردی ہیں اور مسلمان اپنے روایتی آداب و تشخص کی طرف بڑھتے ہوے گھبرانے لگے ہیں مسلمانوں کو احساس ہوچکا ہے کہ ان کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا جاتا۔

اگر برطانوی مسلمانوں سیاہ فام ہے تو اسے دیگر سیاہ فاموں کی طرح امتیازی سلوک کا شکار بنایا جاتا ہے اس ملک میں ہر جگہ جیسے ملازمتوں طبی سہولتوں اسکولوں اور دیگر اداروں میں امتیازی سلوک دیکھا جاسکتاہے ۔

لندن میں آپ کو ھندوستان پاکستان بنگلادیش کے علاوہ دنیا کے ہر ملک کا مسلمان دیکھنے کو مل جاے گا ۔

برطانیہ میں رجسٹرڈ مسجدوں کی تعداد پانچ سو چوراسی ہے اور مسلمانون کے چار سرکاری اسکول ہیں یہاں پاکستانی تارکین وطن کی تعداد سب سے زیادہ ہے اس کے بعد بنگلادیشی ھندوستانی مہاجروں کی تعداد ہے ۔


This is the reason why I am always against movies like khuda kay liyey and any bollywood movies, because in that movie they pass on a concept of being western has no harm on our religion. When there is no religion there is no reason for our life.
Sat Feb 02, 2008 7:20 pm View user's profile Send private message MSN Messenger
ugwaraich
Senior Proud Pakistani
Senior Proud Pakistani


Joined: 22 May 2007
Posts: 1475

one suggestion Reply with quote
please try to give the reference of the author always before you post any article or any written material, firstly because it is unfair thtat author doesnt get the credit of his/her writing, secondly, it tells you that how authentic is the writer or the material, thanx
Sat Feb 02, 2008 7:25 pm View user's profile Send private message MSN Messenger
khusboo
Pak Newbie


Joined: 21 Dec 2007
Posts: 12

hi Reply with quote
hellooooooooooooooooo
Sun Feb 03, 2008 8:16 am View user's profile Send private message
ayesha baig
Pak Newbie


Joined: 04 Feb 2008
Posts: 2

Reply with quote
WHEN YOU GO OUT AROUND IN THE WORLD YOU REALIZE THAT THAT MUSLIMS ARE VERY FAR BEHIND IN TECHNOLOGY AND ALL FROM WESTREN WORLD.IS THIS BECAUSE WE ARE MOVING AWAY FROM OUR VALUES AND RELIGON?I DONT KNOW BUT IT IS VERY PAINFUL TO SEE THAT WE SHOULD BE THE ONE AHEAD AND SETTING EXAMPLE INSTEAD OF FOLLOWING. I HOPE WE REALIZE WHERE WE ARE HEADING AS MUSLIMS AND A NATION.
Mon Feb 04, 2008 9:51 am View user's profile Send private message
loje
Members Helper
Members Helper


Joined: 14 Jan 2008
Posts: 2761
Location: Saudia Arabia

Reply with quote
Rolling Eyes Rolling Eyes
What Is That Means Can U Explain To ME ??? Please??? What Are U TAlking About???
Thanks

_________________
Mon Feb 04, 2008 12:16 pm View user's profile Send private message
shah_mmd@hotmail.com
Pak Newbie


Joined: 05 Feb 2008
Posts: 3

Muslims in England Reply with quote
Thanks for your posting.

Muhammad Shah
Wed Feb 06, 2008 12:28 am View user's profile Send private message
khizerinayat
Pak Newbie


Joined: 06 Feb 2008
Posts: 1

http://www.forumpakistan.com/profile.php?mode=activate&u Reply with quote
Always say Alhamdulillah
Wed Feb 06, 2008 12:41 am View user's profile Send private message
asaad56
Pak Newbie


Joined: 09 Feb 2008
Posts: 1

Reply with quote
Thanks
Sat Feb 09, 2008 1:23 am View user's profile Send private message
maniyayo
Pak Newbie


Joined: 23 Dec 2007
Posts: 25

thanks Reply with quote
thanks
Mon Feb 11, 2008 8:30 am View user's profile Send private message
sohna23
Pak Newbie


Joined: 11 Feb 2008
Posts: 1

Reply with quote
Muslims of world needs a unity. The day they will be united all problems will be solved.
Mon Feb 11, 2008 5:50 pm View user's profile Send private message
shadyk11
Pak Newbie


Joined: 12 Feb 2008
Posts: 3

thank you so much Reply with quote
thank you so much for this
Tue Feb 12, 2008 7:06 am View user's profile Send private message
hobaba
Pak Newbie


Joined: 27 Jan 2008
Posts: 11
Location: Islamabad

Reply with quote
MashAllah kitni ziyda malumat hain aap kay pass.

_________________
rrterteeeeeeeeeywfwjukyqfyuqgugukyf7tuysgfhgfy
Tue Feb 12, 2008 8:41 pm View user's profile Send private message Send e-mail Visit poster's website AIM Address Yahoo Messenger MSN Messenger ICQ Number
khanammad
Pak Newbie


Joined: 18 Feb 2008
Posts: 1

Muslims In USA Reply with quote
Asslam-o-Alikum

I live in USA and working here in a reputable company i think in Washington the situation is really good. And good bless for all muslim people.
Mon Feb 18, 2008 9:19 am View user's profile Send private message
nainee
Pak Newbie


Joined: 06 Jan 2008
Posts: 8
Location: Mullingar, Ireland

Reply with quote
[quote="askari.z55"][size=24][b]برطانیہ کے مسلمان[/b]

goooooooooood man
برطانیہ میں مسلمانوں کی اکثریت برصغیر ھند سے تعلق رکھتی ہے برطانوی معاشرہ ایک طرف ماہر مہاجرین کا استقبال کرتا ہے لیکن عام تارکین وطن کو خوش آمدید نہیں کہتا۔

مغربی دنیا میں خواہ وہ برطانیہ ہو یا کوئی اور ملک مسلمان بری طرح سے توجہ کا مرکز بنے ہوۓ ہیں اسی بنا پر برطانوی مسلمان انگریزی تہذیب اپنانے کے حق میں ہیں گارڈ