Forum Pakistan
New User? Register | Search | Memberlist | Log in
Forum Pakistan - Pakistani Forums
Pakistani forum to discuss Pakistani Media, Siasat, Politics Talk Shows, Khaber Akhbar, Khel, Cricket, Film, Dramas, Songs, Videos, Shairy, Shayari, Pyar Mohabbat ki Kahani, Tourism, Hotels, Fashion, Property, Naukary Gupshup and more.
Watch TV OnlineLive RadioListen QuranAkhbarFree SMS PakistanResults OnlineUrdu EditorLollywoodLive Cricket Score
Government DepartmentsKSE Live RatesUseful LinksJobsOnline GamesCheck EmailPromote us
GEO News LiveGEO NewsDawn News Live TVExpress News

Lateefay


Bookmark and Share Goto page 1, 2, 3, 4  Next
 
Reply to topic    Forum Pakistan - Pakistani Forums Home » Jokes
Lateefay
Author Message
TariqRaheel
Full PK Member
Full PK Member


Joined: 28 Aug 2007
Posts: 107
Location: Karachi

Lateefay
بوڑھے لکھ پتی کی نوجوان بیوی سے پوچھا گیا : آپ نے اپنے شوہر میں کیا دیکھا تھا؟
لڑکی بولی : ایک تو انکی اِن کم ۔۔ دوسرے ان کے دِن کم



گرل فرینڈ نے اپنا پیچھاکرنے والے لڑکے کو اپنے غنڈے بھائی کے حوالے کر کے کہا
“کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو“
“ماڈرن زمانہ ہے گولی سے اڑا دو سالے کو“



اگر آپ بس پر چڑھیں یا بس آپ پر چڑھے
دونوں صورتوں میں ٹکٹ آپ ہی کا کٹے گا



لڑکا : چلو کسی ویرانے میں چلتے ہیں
لڑکی: لیکن تم وہاں کوئی ایسی ویسی حرکت تو نہیں کرو گے؟
لڑکا: ہرگز نہیں۔۔ وعدہ
لڑکی: رہنے دو۔ پھر کیا فائدہ



درجنوں مزدور کو کام پہ لگا کر، لاکھوں روپے لگا کر ۔ ایک گھرتو بن سکتا ہے
لیکن ایک عورت کے بغیر پورا گھر ویران رہتا ہے۔
اور وہ عورت ہے ۔ “ کام کرنے والی ماسی“



باس : (ملازم سے) کبھی اُلو کی شکل دیکھی ہے ؟
ملازم (سر نیچے جھکا کر) ۔ نہیں سر ! سوری !
باس : نیچے کیا دیکھ رہے۔ ادھر میری طرف دیکھو



لڑکا ۔۔ رات کے شو کی دو ٹکٹیں لایا ہوں۔ سینما جائیں گے اور آخر والی سیٹوں پر بیٹھیں گے۔
لڑکی۔۔ اگر آخر والی سیٹیں نہ ملیں تو؟
لڑکا۔۔ پھر فلم دیکھ لیں گے۔۔۔۔۔




استاد (شاگرد سے): کوئی سے پانچ پھلوں کے نام بتاؤ۔

شاگرد: تین مالٹے دو سیب۔


_________________
Muhammad Tariq Raheel
TariqRaheel@GMail.Com
Sun Aug 31, 2008 11:36 am View user's profile Send private message Send e-mail AIM Address Yahoo Messenger MSN Messenger ICQ Number
TariqRaheel
Full PK Member
Full PK Member


Joined: 28 Aug 2007
Posts: 107
Location: Karachi

Lateefa's Reply with quote
ایک آدمی مچھلی کا شکار کر کے لایا اور بیگم سے کہا کہ اسے پکا کے کھلاؤ تو بیگم نے جواب دیا
نہ بجلی ہے نہ گیس ہے نہ پانی ہے نہ آٹا ہے اور نا کوکنگ آئل ہے
آدمی مچھلی کو دریا میں واپس چھوڑ کے آ رہا تھا تو مچھلی نے پانی میں سے سر باہر نکال کر زور سے نعرہ لگایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔







جیو مشرف
------------------------------------------------------------------------------------------------
چاند کو توڑ دونگا۔۔۔سورج کو پھوڑ دونگا۔۔۔۔۔۔
تو ایک بار ہاں‌ کہہ دے۔۔۔۔ پہلی والی کو چھوڑ دونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















دوکاندار:
میں آپ سے پچھلے تین دن سے کہہ رہا ہوں کہ ہم سکھوں کو چیزیں نہیں بیچتے اور تم روزانہ حلیہ بدل کر خریداری کے لئے چلے آتے ہو۔

سردار جی:
چلو میں آئندہ نہیں آؤں گا، مگر آپ یہ تو بتائیں کہ آپ کو یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ میں سکھ ہوں؟

دوکاندار:
جسے تم روزانہ الماری سمجھ کر خریدنے کی کوشش کرتے ہو وہ اصل میں فریج ہے۔











پنجاب کے علاقے میں پاک بھارت سرحد پر جھڑپیں جاری تھیں۔ بھارتی فوج سکھوں پر مشتمل تھی۔ رات اتنی کالی تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ اب خالی خولی فائرنگ کا کیا فائدہ!

پاکستانی فوجیوں نے مشورہ کیا کہ اب کیا کیا جائے!!! ایک ذہین فوجی نے کہا کہ سکھوں میں اکثر نام 'رام سنگھ' ہوتا ہے۔ ہم میں سے وقفے وقفے سے "رام سنگھ" کا نام لے کر آواز دیں گے، جدھر سے آواز آئے گی، گولی مار دیں گے۔

میٹنگ ختم ہوئی، سب نے اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں۔ ایک فوجی نے آواز لگائی: "رام سنگھ"۔ ادھر سے جواب آیا: "ہاں"۔ ساتھ ہی ایک ٹھاہ کی آواز بلند ہوئی اور رام سنگھ مارا گیا۔

چند منٹ بعد پھر ایک فوجی کی آواز آئی: "رام سنگھ"۔ جواب آیا: "ہاں"۔ ساتھ ہی ٹھاہ۔

جب چار پانچ رام سنگھ ڈھیر ہو گئے تو سکھوں نے بھی میٹنگ بھلا لی۔ ایک ذہین سکھ فوجی نے مشورہ دیا کہ ہم بھی ان کے ساتھ وہی کرتے ہیں جو انہوں نے ہمارے ساتھ کیا۔ مسلمانوں میں اکثر نام "اللہ رکھا" ہوتا ہے۔ وقفے وقفے سے آوازیں لگا کر ان کے سارے اللہ رکھے مار دیتے ہیں اور اپنا بدلہ لے لیتے ہیں۔

ذہین سکھ فوجی کا یہ مشورہ سب نے بہت پسند کیا اور اسے کندھوں پر اٹھا لیا۔ میٹنگ کے بعد سب نے اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں۔ تھوڑی دیر کے بعد اسی ذہین سکھ فوجی نے آواز لگائی: "اللہ رکھا"۔

ادھر سے جواب آیا: "اللہ رکھا چھٹی پر ہے۔ تم کون ہو، رام سنگھ"؟ اس نے کہا: "ہاں"۔ ساتھ ہی آواز آئی ٹھاہ اور ذہین سکھ فوجی مارا گیا۔










ایک سردار جی ویسٹ انڈیز انڈیا سیریز کے میچ دیکھنے کے لئے ویسٹ انڈیز گئے انھوں نے ویسٹ انڈیز کے ساحلوں کے بارے بہت سن رکھا تھا سو وہ سمندر کنارے سن باتھ کے لئے چلے گئے
کچھ دیر گزری تھی کہ ایک انگریز کا گزر ہوا اور اس نے سردار جی سے پوچھا آر یو ریلیکسنگ ؟

سردار جی بولے نو نو آئی ایم ناٹ ریلیکسنگ
آئی ایم ہرنام سنگھ

کچھ دیر مزید گزری کہ ایک سیاہ فام عورت نے گزرتے ھوئے پھر وہی سوال دہرایا

سردار جی کا جواب پھر وہی تھا

خیر جو بھی وہاں سے گزرتا وہ یہی پوچھتارہا سردار جی کا سکون غارت ہو گیا
اور وہ آگ بگولا ہو کر ایک طرف چل دیئے
کچھ دور جانے کے بعد ان کو ایک اور سردار منہ پر ہیٹ لئے لیٹا نظر آیا

ہرنام سنگھ نے اس کے منہ سے ہیٹ پیچھے کیا اور پوچھا


آر یو ریلیکسنگ ؟
دوسرے سردار جی نے جواب دیا
یس آئی ایم ریلیکسنگ

ہرنام سنگھ نے ایک زور کا طمانچہ اس کے منہ پر مارا اور کہا

“اوئے کھوتے دے پتر توں ایتھے پیا ایں تے اوتھے تینوں سارے لب رئے نیں“

_________________











ایک سردار ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑہ ڈال رہا تھا۔ محلے والے ڈھول کی اونچی آواز سے تنگ ہو رہے تھے۔ ایک ہمسایہ تنگ آکر بھنگڑہ ڈالنے والوں کے گھر گیا اور پوچھا۔
“سردار جی ۔۔۔۔ کیہہ گل اے، ایہہ بھنگڑہ کس خوشی وچ پا رئے او؟“

سردار جی نے ناچتے ناچتے جواب دیا۔
“ساڈے بھائی جوگندر سنگھ فوت ہو گئے نیں، ایسے واسطے!“

ہمسائے نے حیران ہو کر کہا
“سردار جی ۔۔۔ اک تہڈا بھرا مریا اے، اتوں تسی خوش ہو کے بھنگڑہ پا رئے او؟ ایہہ کوئی خوشی دا ویلا اے؟“

سردار جی کہا
“بھرا جی! ساڈے واسطے ایہہ خوشی دا موقع اے!“

ہمسائے نے پوچھا
“اوہ کس طراں؟“

سردار جی کہا
“دیکھو جی پوری دنیا کہندی اے سکھ بے وقوف ہندے نیں!
اہنادا دماغ ای نئیں ہوندا، بھائی ہوری دماغ دے کینسر نال مرے نیں۔۔۔۔۔اج پہلی واری ثابت ہو گیا اے کہ سکھاں دا وی دماغ ہوندا ہے۔۔۔۔۔ ورنہ کینسر نہ ہوندا، تسی جاؤ سانوں بھنگڑہ پان دیو!“










پرنام سنگھ بڑا نامي گرامي پائلٹ تھا ايک دفعہ اسے جہاز کو لندن سے امريکہ لے جانا تھا آٹھ گھنٹے کي اس طويل پرواز ميں جہاز سمندر پر اڑتا ھے۔ جھاز کو پرواز کئے چار گھنٹے گزر چکے تھے کچھ مسافر سو رھے تھے کچھ جاگ رھے تھے۔ اچانک سپيکر پر کپتان کي آواز ابھري "خواتين و حضرات ۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاز کا کپتان پرنام آپ سے مخاطب ھے۔ نيويارک جانے والي پرواز پر ھم چار گھنٹے کا سفر کر چکے ہيں، ٣٥ فٹ کي بلندي پر سفر کرتے ھوئے ھم اس وقت بحراوقيانوس کے عين درميان ميں ھيں"

"اگر آپ دائيں بائيں کي کھڑکيوں سے باھر جھانک کر ديکھيں تو آپ کو نظر آئے گا کہ جہاز کے چاروں انجنوں ميں آگ لگي ھوئي ھے"

"اگرآپ جہاز کے پچہلے حصے ميں جاکر ديکھيں تو پتا چلے گا کہ جھاز کي دم چند لمحوں بعد ٹوٹ کر عليحدہ ھو جائے گي"

“اگر آپ جہاز کي کھڑکي سے نيچے سمندر ميں ديکھيں تو آپ کو پيلے رنگ کي چھوٹي سي لائف بوٹ نظرآئے گي، جس ميں سوار تين آدمي آپ کي طرف ديکھ کر ہاتھ ھلا رھے ھيں"

“يہ تين آدمي، ميں پرنام سنگھ، ميرا معاون پائلٹ کورنام سنگھ اور نيوي گيٹر بنتاسنگھ ھيں۔ سپيکر پر جو آواز آپ سن رھے ھيں وہ پہلے سے ريکارڈ شدہ ھے، واہِ گرو آپ کو اپني پناہ ميں کہے، اجازت چاھتا ھوں ست سري اکال"







سردار جی نے نیا گھر بنوایا اور سب دوستوں کی دعوت کی۔

گھر کا ایک ایک کونہ دوستوں کو دکھایا۔ چلتے چلتے پچھلی جانب واقع لان میں پہنچ گئے، جہاں پانی کے دو تالاب تھے۔ ایک میں پانی تھا اور فوارے چل رہے تھے، دوسرا بالک خشک۔

پانی والے تالاب کی طرف اشارہ کر کے سردار جی نے کہا: اے تالاب میں اپنے نہاون واسطے بنوایا جے۔

ایک دوست پوچھتا ہے: سردار جی! اے دُوجا سکا تالاب کس واسطے بنوایا جے؟

سردار جی جواب دیتے ہیں: کدی بندے دا نہاون نوں دل نئیں وی کردا۔









امرتسر ریلوے اسٹیشن پر ٹرین چل پڑی
ایک سردار جی پاگلوں کی طرح ٹرین کے پیچھے بھاگ رہے تھے، میں ٹرین کے آخری ڈبے کے دروازے میں کھڑا ان کو بھاگتے دیکھ رہا تھا، بڑی مشکل سے جب وہ ٹرین کے پاس پہنچے تو میں نے ان کی طرف ہاتھ بڑھا دیا، سردار جی نے میرا ہاتھ تھاما اور ٹرین پر چڑھ گئے۔
میں نے کہا “واہ سردار جی بڑی ہمت ماری اے“
سردار جی بولے “یار کھے تے سوا ہمت ماری، جیہنو چڑھان آیا سی او تے تھلّے رہ گیا“
















ویسٹ انڈیز سے درگت بننے کے بعد ہرنام سنگھ کو شوق چرایا کہ چلو جرمنی میں فٹ بال کا ورلڈ کپ دیکھنے چلتے ہیں۔

چنانچہ وہ جرمنی پہنچے اور ان کو بڑی مشکل سے میچ دیکھنے کا ٹکٹ مل ہی گیا اور لگے میچ دیکھنے۔ تمام تماشائی اپنی اپنی ٹیموں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ ہرنام سنگھ فٹ بال کا میچ دیکھ کر بور ہو رہے تھے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ تمام کھلاڑی ایک ہی گیند کے پیچھے کیوں لڑ رہے ہیں۔

جب کافی دیر سردار جی کو کچھ سمجھ نہ آئی تو انھوں نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک تماشائی سے پوچھے تمام لوگ ایک گیند کے پیچھے لڑ کیوں رہے ہیں؟

تماشائی نے جواب دیا سردار جی یہ لڑ نہیں رہے بلکہ گول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

سردار جی بولے میں تو سمجھتا تھا کہ صرف سردار ہی بے وقوف ہوتے ہیں لیکن انگریز قوم تو ہم سے بھی ذیادہ بے وقوف ہے۔ فٹ بال تو پہلے ہی گول ھے اسے لاتیں مار مار کر اپنا وقت ضائع کر رہی ہے۔

_________________









ایک سردار جی جنرل سٹور سے شاپنگ کرتے ہوئے، دوکاندار سے پوچھتے ہیں:
“اس تیل کے ڈبے کا گفٹ کہاں ہے؟“
دوکاندار:
“سردار جی اس کے ساتھ کوئی گفٹ نہیں“
سردار جی:
“اوئے اس پر لکھا ہے ‘کولسٹرول فری













سرداروں کے 12 بجنے کی حقیقت جاننےکیلئے آج کے ایک بچے نے پلاننگ کی ۔۔۔۔ اور سردار جی کے راستے میں کھڑا ہوگیا جہاں سےوہ اپنی صبح و صبحُ (قریبا‘‘12 بجے) دہی لے کے گُزرا کرتے تھے۔
ٹائیم پوچھنے پر سردار جی نے ٹائیم دیکھنے کی کوشش میں دہی والے ہاتھ کو گُھما کے دہی گِرا دیا۔اور لگے بچے کو گھورنے۔۔۔۔!
بچہ بھاگ گیا۔
اگلے دن تصدیق کے خیال سے ایک بار پھر ٹائیم پوچھا تو سردار جی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر دہی گِرا بیٹھے ۔
تیسرے دن سردار جی بہت محتاط انداز میں خود بچے کو تلاشتی نگاہوں سےدیکھتے ۔۔۔ دہی والا برتن گھڑی والے ہاتھ کی بجائے دوسرے ہاتھ میں لیئے چلے آ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچے پر نگاہ پڑی ۔۔۔۔ بڑے انداز میں مُسکرائے اور بولے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مینوں پتا ۔۔۔ تُوں اج وی میرا دہی سُٹّن دے چکر اِچّ ایتھے کھڑا ایں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بڑے انداز سے گھڑی والے باتھ کو اونچا کر کے گھڑی دیکھتےہوئے (دہی والے ہاتھ کو عورتوں کی طرح اپنے ہی محور میں گھماتے ہوئے) بولے ۔۔۔۔۔ پر اج ساڈھے بارہ نیہئوں وجنے۔۔۔۔۔۔۔!!!










سردار جی نے جلدی میں ائیر پورٹ فون کر کے فلائیٹ کا ٹائیم پوچھا ۔۔۔ مبادہ لیٹ نہ ہو جائیں ۔
سردار جی :- او جی کلکتہ جاون والا جہاز کِدوں جائیگا۔۔۔؟
انکوائری سے جواب مِلا :- ؛؛ جسٹ اے منٹ ؛؛
سردار جی :- ؛؛ شکریہ؛؛
کہہ کے فون بند کر دیا۔


_________________
Muhammad Tariq Raheel
TariqRaheel@GMail.Com
Sun Aug 31, 2008 11:43 am View user's profile Send private message Send e-mail AIM Address Yahoo Messenger MSN Messenger ICQ Number
TariqRaheel
Full PK Member
Full PK Member


Joined: 28 Aug 2007
Posts: 107
Location: Karachi

Reply with quote
ڈر ڈر کے شیخ پڑھتے ہیں لا حول آج کل
شیطاں کے پاس رہتا ہے پستول آج کل

موٹر بھگائے پھرتا ہے لیلیٰ کے واسطے
مجنوں کو ہے ضرورت پٹرول آج کل








بولا دکاندار، کہ کیا چاہیئے تمہیں
جو بھی کہو گے میری دکان پر وہ پاؤ گے
میں‌نے کہا کہ کتے کہ کھانے کا کیک ہے
بولا یہیں پہ کھاؤ گے یا لے کے جاؤ گے






جسے دل دیا وہ دہلی چلی گئی
جسے پیار کیا وہ اٹلی چلی گئی
دل نے کہا خودکشی کر لے ظالم
بجلی کو ہاتھ لگایا تو بجلی چلی گئی

واہ واہ ۔۔۔ کیا خوب کہا ہے۔۔۔ دوبارہ ارشاد۔۔۔

جسے دل دیا وہ دہلی چلی گئی
جسے پیار کیا وہ اٹلی چلی گئی
دل نے کہا خودکشی کر لے ظالم
بجلی کو ہاتھ لگایا تو بجلی چلی گئی









ًمحکمہ تو لٹ گیا ان چپراسیوں سے
گھر تو لٹ گیا ان آدھے گھروالوں سے

خزانہ خالی کرکے چھوڑا بے دردی سے
پوچھا کسی نے نہیں ان موالیوں سے

یہ سیاسی خدمت گزار معصوم سے
گھر ھی لٹ گیا، گھر کے چراغوں سے









عہدہ ملے یا نہ ملے، چمچہ بننا ھی عقلمندی ھے
مفت کی بدمعاشی، اور کیا خوب غنڈہ گردی ھے

چمچہ کے پاور کو اب، اتنا بھی کمزور نہ سمجھو
ایک اشارے سے اب، بڑے بڑوں کی اترتی وردی ھے

کس چیز کا لائیسنس، بھیک مانگنے کا بھی ھے
ایک ٹیلفون گھمانے پر، منظوری بھی دے دی ھے

سولی چڑھا دو ایمان، ساتھ ارمان کو بھی
کسےحساب دینا ھے، کس بات کی جلدی ھے











ایک پاگل خانے میں ایک پاگل سوئمنگ پول کے کنارے ٹہل رہا تھا جب اس نے دیکھا کہ ایک پاگل لڑکی نے سوئمنگ پول میں چھلانگ لگائی اور اسکی تہہ میں جا کر غائب ہوگئی ۔ پاگل نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ فوراً تالاب میں کودا ۔ تیرتا ہوا تہہ تک پہنچا اور لڑکی کو باہر نکال کر لے آیا۔
پاگل خانے کے ڈائریکٹر تک جب یہ خبر پہنچی تو اس نے پاگل کو بلایا اور اسے کہا کہ تمھارے لیے ایک اچھی خبر ہے اور ایک بری خبر۔
اچھی خبر یہ ہے کہ کل جس طرح تم نے ایک لڑکی کو ڈوبنے سے بچایا ہے اس پر ہمارے بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمھارے اندر انسانی ہمدردی کے جذبات زندہ ہوچکے ہیں اور تمھارا دماغ کام کرنا شروع ہوگیا ہے۔ لہذا تمھیں گھر جانے کی اجازت ہے۔
“اچھا جی “ پاگل خوشی سے اچھل پڑا “لیکن بری خبر کیا ہے؟“
“بری خبر یہ ہے کہ تم نے جس لڑکی کو تالاب سے نکال کر جان بچائی تھی ۔ اس نے چھت پر جاکر گلے میں رسی ڈال کر خود کشی کر لی ہے۔اور۔۔۔۔۔ “
“نہیں جناب “ پاگل نے جلدی سے بات کاٹ کر کہا “اس نے خود کشی نہیں‌کی ۔ وہ تو میں نے اسے پانی سے نکال کر سوکھنے کے لیے چھت پر رسی سے لٹکا دیا تھا۔ اب یہ بتائیے کہ میں گھر کب جا سکتا ہوں ؟“








پاگل ڈاکٹر سے
ڈاکٹر صاحب میں نے100 صفحوں کی کتاب لکھی ہے کیا آپ پڑہنا پسند کریں گے
ڈاکٹر : کیوں نہیں ہوسکتا ہے کہ کتاب لکھنے سے آپ کو پاگل خانے سے رہائی مل جائے
پاگل نے کتاب میں لکھا :
پہلے صفحہ پر: گھوڑا کیسے دوڑتا ہے ۔
باقی 99 صفحوں پے لکھا تھا ۔
-
-
-
-
-
-
-
-
-
-
-
-
-
-
-
-
--
-
دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ




ایک آدمی اپنی گاڑی کے پاس آیا تو دیکھا کہ ایک ٹائر کے چاروں پیچ غائب ہیں۔ بہت پریشان ہوا کہ اب کیا کروں۔ ساتھ ہی پاگل خانہ تھا جس کی کھڑکی سے ایک پاگل باہر جھانک رہا تھا۔ پاگل نے آواز لگائی ۔۔۔۔ باقی تین ٹائروں سے ایک ایک پیچ کھول کر لگا لو۔
آدمی کو پریشانی کا حل ملا اور حیرت سے پاگل کی طرف دیکھ کر بولا ۔۔۔۔ تم پاگل خانے میں قید ہو مجھے تو تم بالکل پاگل نہیں لگتے۔۔۔۔ پاگل بولا میں پاگل ہوں کوئی بیوقوف نہیں ۔۔۔۔








ایک پاگل کار چلاتے ہوئے جا رہا تھا ۔ کار کی پچھلی سیٹ پر 20 بطخیں بیٹھی تھیں۔ راستے میں پولیس والے نے روکا اور پوچھا یہ تمہارے پچھلی سیٹ پر کیا ہے؟ پاگل نے کہا “یہ ساری میری بیویاں ہیں“ پولیس والا سمجھ گیا کہ یہ پاگل ہے۔ چنانچہ پاگل سے بولا ۔ اچھا ایسا کرو انہیں زو (چڑیا گھر) لے جاؤ۔
پاگل نے رضامندی سے سر ہلایا، گاڑی موڑی اور چلا گیا۔ اگلے دن پھر وہی پاگل انہیں 20 بطخوں کو پچھلی سیٹ پر بٹھائے پھر ادھر ہی جا رہا تھا۔اسی پولیس والے نے اسے پھر روک لیا ۔ اور کہا کہ میں نے تمھیں کہا تھا کہ اپنی بیگمات کو چڑیاگھر لے جاؤ۔
“لے گیا تھا“ پاگل نے کہا۔۔ “ آج انکو سینما لے جارہا ہوں“





صدر صاحب نے پاگل خانے کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔ دورے کے دوران ایک پاگل نے صدر صاحب کو روکا اور پوچھا ۔۔۔ تم کون ہو؟ ۔۔۔۔ صدر صاحب نے جواب دیا میں‌ صدر پاکستان ہوں ۔۔۔ پاگل بولا کوئی بات نہیں ٹھیک ہو جاؤ گے جب میں‌نیا آیا تھا تو میں بھی یہی کہتا تھا۔




بیوی: میں نے کہا جی ! تم مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو؟
شوہر: اتنی محبت جتنی شاہ جہاں کو ممتاز سے تھی
بیوی: (خوشی سے) اوہ سچی ؟ تو کیا تم میرے مرنے کے بعد میری یاد میں تاج محل بنواؤ گے۔
شوہر: میری جان میں نے تو پلاٹ خرید بھی لیا ہے۔ اب تمہاری طرف سے ہی دیر ہے۔



پاگل خانے میں برسہا برس گذارنے کے بعد ایک پاگل کو اسکے اطمینان بخش رویے کے باعث‌ اسے گھر بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن اس سے پہلے میڈیکل آفیسر نے اس پاگل کو اپنے آفس بلایا اور بتایا کہ میڈیکل بورڈ اسے گھر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کیا تم بتانا پسند کرو گے کہ گھر واپس جا کر تم زندگی کیسے گذارو گے ؟
" ڈاکٹر صاحب " پاگل نے سنجیدگی سے بولنا شروع کیا " مجھے اپنی نارمل زندگی میں جانے کی بہت خوشی ہوگی ۔ میں کوشش کروں‌گا کہ سابقہ غلطیوں سے درگذر کروں۔ دراصل میں ایٹمی سائنسدان تھا اور بہت زیادہ کیمیائی اور ایٹمی ہتھیار بنانے کی وجہ سے اور دن رات اسی کام میں‌لگا رہنے کی وجہ سے میں‌پاگل خانے پہنچا تھا۔ لیکن اب میں واپس جا کر پریکٹیکل ہتھیار بنانے کی بجائے صرف تھیوری پر کام کروں گا۔ مجھے امید ہے اس سے مجھ پر ذہنی دباؤ کافی کم ہوگا۔
" ویری گڈ " ڈاکٹر نے ستائش آمیز لہجے میں کہا۔
اور پاگل نے بات جاری رکھی
" اگر تھیوری ورک سے بھی مجھے کچھ کوفت محسوس ہوئی تو پھر میں ایٹامک سائنسز میں پروفیسر شپ شروع کردوں گا۔ امید ہے کہ اس سے میرے ضمیر کو بھی اطمینان ملے گا کیونکہ میں اپنے وطن کے لیے سائنسدانوں کی پوری نسل تیار کر سکوں‌گا۔"
" بہت شاندار آئیڈیا ہے " ڈاکٹر بہت ہی خوش ہو رہا تھا۔
" اگر کسی وجہ سے اوپر والے تینوں آپشنز میں سے کسی پر بھی کام نہ کر سکا ۔ تو پھر میں گھر بیٹھ کر اپنی زندگی کے تجربے پر کتاب لکھوں گا۔ مجھے امید ہے کہ میرے ملک اور آئندہ نسلوں کے لیے ایٹامک سائنسز کی دنیا میں ایک عظیم خزانہ ثابت ہوگی۔
" واؤ۔ ایکسلینٹ ۔ ہمارے وطن کو واقعی ایسے انٹیلیکچوئیلز کی بہت ضرورت ہے" ڈاکٹر اٹھ کر پاگل کو عزت و احترام سے گلے لگانے کے لیے آگے بڑھا ہی تھا کہ پاگل نے اسی وقت ایک اور جملہ بولا
" اور ڈاکٹر صاحب ! اگر اوپر والے سارے راستوں میں سے کوئی بھی راستہ اختیار نہ کرسکا تو پھر میں واپس ریلوے سٹیشن پر پان سگریٹ والا کھوکھا دوبارہ شروع کردوں گا۔"








پاگل خانے کی ریسپشن پر ٹیلفون بجا ۔ ریسپشنسٹ نے ٹیلیفون اٹھایا تو دوسری جانب سے ایک صاحب نے پوچھا ۔
" میڈم ۔ کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ اس وقت روم نمبر 27 میں کون ہے " ؟
ریسپشنسٹ نے ہولڈ کروایا۔۔۔ جا کر روم نمبر 27 چیک کیا ۔۔ خالی پا کر فون والے صاحب کو اطلاع دی کہ روم نمبر 27 خالی ہے۔
" اوہ ۔ خدایا تیرا شکر ہے۔ اس کا مطلب ہے میں واقعی پاگل خانے سے فرار ہوچکا ہوں "


_________________
Muhammad Tariq Raheel
TariqRaheel@GMail.Com
Sun Aug 31, 2008 11:48 am View user's profile Send private message Send e-mail AIM Address Yahoo Messenger MSN Messenger ICQ Number
TariqRaheel
Full PK Member
Full PK Member


Joined: 28 Aug 2007
Posts: 107
Location: Karachi

Reply with quote
بیوی کی ڈائری 2006-10-10
آج صبح میں نے اس سے (شوہر سے) شام 4 بجے باہر جا کر کافی پینے کا وعدہ کیا
دفتر کے بعد اپنی دوست کے ساتھ شاپنگ کے لیے گئی تو کچھ دیر ہو گئی۔
مجھے احساس تھا کہ اسے انتظار کرنا گراں گذرتا ہے۔
لیکن میں نے سوچا سوری کر لوں گی۔
میں 15 منٹ لیٹ پہنچی تو وہ واقعی بہت پریشان دکھائی دے رہا تھا
میں نے سوری بولا اور اپنی دوست کے ساتھ شاپنگ کی وجہ بتائی۔
اس نے کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا۔
میں نے اسے کافی پینے کا وعدہ یاد دلایا۔ وہ جیسے بوجھل قدموں سے ساتھ ہو لیا۔
کافی ہاؤس میں بھی اسکی پریشانی اسکے چہرے سے عیاں تھی۔
میں نے وجہ پوچھی تو جواب ملا “کچھ نہیں“
میں نے اعتراف کیا کہ غلطی میری ہی ہے۔ وہ خلا میں نظریں جمائے خاموش رہا۔
گھر واپس آتے ہوئے راستے میں میں نے اسکا ہاتھ دبا کر کہا “آئی لو یو“
پھر کوئی جواب نہیں۔
میں نے پوچھا “ڈارلنگ کیا تم بھی مجھ سے پیار کرتے ہو“
اس نے اقرار میں سر ہلا دیا۔ لیکن مجھے محسوس ہو گیا کہ یہ دکھاوا ہے۔
گھر پہنچ کر میں باتھ روم گئی۔ بیڈ روم میں آئی تو وہ کروٹ بدل کر سو چکا تھا۔
میں اکیلے بیٹھی دیر تک روتی رہی۔
اتنی چھوٹی سی غلطی میری زندگی کو جہنم بنا دے گی۔ کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھی
اب تو زندگی کی ساری خوشیاں مٹتی نظر آ رہی تھیں۔
انہی اندھیروں کے خوف سے نہ جانے کب میں روتے روتے سو گئی۔
شوہر کی ڈائری 2006-10-10
آج پاکستان انڈیا کے خلاف فائنل ہا ر گیا۔
سارا دن بہت برا گذرا۔









شہر میں 6 منزلہ “شوہر شاپنگ مال“ کا افتتاح ہوا۔ پورے شہر میں دھوم مچ گئی۔ ایک عورت شوہر خریدنے جا پہنچی۔ استقبالیہ پر درج تھا “ہر منزل پر مختلف خصوصیات کے شوہر دستیاب ہیں لیکن ایک منزل سے اگلی منزل پر جانے کے بعد واپس کسی منزل پر آنا ممکن نہیں۔ صرف باہر جانے کا راستہ مل سکتا ہے“
عورت پہلی منزل پر پہنچی ۔ شوہر کی مندرجہ ذیل خصوصیات درج تھیں۔
یہ حضرات کام (جاب) کرتے ہیں اور خدا سے ڈرتے ہیں
عورت دوسری منزل پر پہنچی تو درج تھا
یہ حضرات جاب کرتے ہیں۔ خدا سے ڈرتے ہیں اور بچوں سے محبت کرتے ہیں
عورت تجسس میں ڈوبتی تیسری منزل پر چلی گئی جہاں لکھا تھا
یہ حضرات جاب کرتے، خدا سے ڈرتے، بچوں سے محبت کرتے اور بہت خوش شکل ہیں
عورت “بہتر سے بہتر“ کی تلاش میں چوتھے فلور پر گئی جہاں لکھا تھا
یہ حضرات جاب کرتے، خدا سے ڈرتے، بچوں سے محبت کرتے، بہت خوش شکل ہونے کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے والے ہیں۔
عورت نے ایک لمحے کے لیے یہاں سے شوہر خریدنے کا سوچا لیکن اگلے لمحے ھل من مزید کے تحت پانچویں فلور پر گئی جہاں درج تھا۔
یہ حضرات جاب کرتے، خدا سے ڈرتے، بچوں سے محبت کرتے، بہت خوش شکل ہونے کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹانے والے اور اپنی بیوی سے دیانتداری سے محبت کرتے ہیں۔
عورت کو محسوس ہوا کہ ایسا شوہر ہی اسکی مراد ہے۔ لیکن دل نہ مانا چنانچہ اس نے آخری منزل یعنی چھٹے فلور پر جانے کا فیصلہ کیا ۔وہاں پہنچ کر یہ تحریر پڑھنے کو ملی
افسوس آپ یہاں پہنچنے والی خاتون نمبر 54،3400 ہیں۔ اس منزل پر کوئی شوہر دستیاب نہیں۔ اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عورت کو خوش اور مطمئن کرنا نا ممکن ہے۔ یہاں سے صرف واپس جانے کا راستہ ہے۔ برائے مہربانی قدم سنبھال کر اٹھائیے گا ۔ آپکی آمد کا بہت شکریہ۔ !!









ملٹی نیشنل کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ ہو رہی تھی۔ اچانک وارڈ روب پر لٹکے قیمتی کوٹ کی جیب میں سے موبائل کی گھنٹی بجی۔ ایک صاحب دوڑ کر گئے اور فون نکال کر اٹینڈ کرلیا۔ دوسری طرف خاتون کی آواز تھی :
ہیلو ہنی ! میں آج دفتر سے جلدی گھر جا رہی تھی سوچا تھوڑی شاپنگ کر لوں ۔ میرے پاس تمھارا کریڈٹ کارڈ ہے ۔ میں سوچ رہی ہوں وہ جو پچھلے ہفتے جیولری کی دکان پر ڈائمنڈ کا سیٹ دیکھا تھا۔ تقریباً 2000 ڈالرز کا۔ کیا وہ خرید لوں۔
صاحب: ہاں ڈارلنگ خرید لو۔ کوئی بات نہیں۔
خاتون: ارے ہاں وہ پراپرٹی ایجنٹ بھی تو راستے ہی میں ہے۔ میں اپنے نام پہ بنگلہ لینا چاہتی ہوں تم نے مجھے پچھلی برتھ ڈے پر ایک بنگلہ گفٹ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مجھے 3 ملین ڈالرز کا ایک بنگلہ بہت پسند ہے۔ کیا وہ بھی خرید لوں؟
صاحب : ہاں بھئی خرید لو۔ لیکن پلیز میں میٹنگ میں ہوں۔
خاتون: اوہ میں دنیا کی کتنی خوش قسمت خاتون ہوں کہ مجھے تم جیسا پیار کرنے والا شوہر ملا۔ صرف ایک آخری بات۔ تمھیں تو پتہ ہے مجھے سپورٹس کار کا بہت شوق ہے۔ مجھے ایک نئی سپورٹس کار بہت اچھی لگ رہی ہے ۔ ابھی وہیں کھڑی ہوں اگر بولو تو تمھارے کریڈٹ کارڈ سے 5۔1 ملین ڈالرز کی یہ گاڑی بھی خرید لوں؟
صاحب : اچھا وہ بھی خرید لو۔ آخر ساری دولت تمھارے لیے ہی تو ہے۔
خاتون: تھینک یو سویٹ ہارٹ۔ آئی لو یو ویری مچ۔ بائے بائے
ان صاحب نے بھی بائے کہہ کر فون واپس کوٹ کی جیب میں رکھا اور واپس باقی ڈائریکٹرز کی طرف مڑ کر پوچھا ۔
یہ کوٹ اور موبائیل کس کا ہے ؟










ٹیچر نے بچے کی نوٹ بک پر ریمارکس لکھے۔
پڑہائی میں اچھا ہے ، مگر لڑکیوں میں زیادہ رہنا پسند کرتاہے ، میں ایک طریقہ استعمال کرنے والی ہوں امید ہے ٹھیک ہوجائیگا۔
ماں نے ریمارکس پڑہے تو ٹیچر کو لکھا۔ شکریہ اگر کام بن جائے تو مجھے بھی بتانا میں وہ طریقہ اسکے والد پر استعمال کرونگی۔













ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی فائر بریگیڈ‌والے آگ بجھا رہے تھے کہ اچانگ ایک فائر بریگیڈ‌کی گاڑی آئی اور فیکٹری مین اندر گھس گئی اور پانی ڈال کر جلدی آگ بجھا دی فیکٹری کے مالک نے اسے 50 ہزار روپئے انعام دیا
اخناری نمائندے ڈرائیور سے پوچھا آپ اس 50 ہزار سے سب سے پہلا کام کونسا کریں گے

ڈرائیور : گاڑی کی بریک ٹھیک کرواؤنگا










مرغی کے انڈوں سے بچے نکلنے والے تھے تو مرغی نے دعا کی
"یا اللہ ! میرے بچے نیک نکلیں "
پہلا انڈہ ٹوٹا ۔ بچہ نکلا تو نماز پڑھنا شروع ہوگیا
دوسرا انڈہ ٹوٹا ۔ بچہ نکلا تو ہاتھ میں‌تسبیح پڑھتا ہوا نکلا
تیسرا انڈہ ٹوٹا ۔ تو بچہ ہی باہر نہ نکلا
۔
۔
۔
۔
۔
ماں (مرغی) بہت پریشان ہوئی
۔
۔
۔
۔
۔
کہ بچہ کیوں نہیں نکل رہا
۔
۔
۔
۔
۔
اندر جھانک کر دیکھا تو بچہ بیٹھا تھا۔
۔
۔
۔
۔
۔
مرغی نے پوچھا ۔ باہر کیوں نہیں نکل رہا ؟
۔
۔
۔
۔
۔
" ماں ! میں اعتکاف بیٹھ گیا ہوں۔" بچےنے اندر ہی سے جواب دیا۔












ایک کسان ڈاکٹر کے پاس پہنچا اور کہنے لگا۔
’’ڈاکٹر صاحب اگلی بار جب آپ گاؤں آئیں تو میری بیوی کو بھی دیکھ لیں۔‘‘
’’خیریت تو ہے ۔ کیا وہ بیمار ہے؟ ‘‘ ڈاکٹر نے پوچھا ۔
’’نہیں بیمار تو نہیں ہے۔‘‘
’’تو پھر کیا بات ہے ‘‘۔
’’کچھ کہنا مشکل ہے ۔‘‘
’’کچھ کہنا مشکل ہے ڈاکٹر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کل صبح وہ معمول کے مطابق چار بجے اٹھی ، بھینسوں کا دودھ نکالا ، ناشتہ تیار کیا پھر ہفتے بھر کے کپڑے دھوئے ، صفائی کی دوپہر کا کھانا پکایا شام تک کھیتوں میں کام کیا پھر رات کا کھانا تیار کیا ، برتن دھو کر رکھے۔ رات کے دس بجے وہ مجھ سے کہنے لگی ۔
’’میں تھک گئی ہوں ۔‘‘
شاید اسے کسی ٹانک کی ضرورت ہے ۔

_________________



قبرستان میں ایک صاحب ایک قبر پر پہنچے اور قبر سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیا
ساتھ ہی ساتھ وہ یہ جملہ کہتے جاتے
"تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی ۔۔ تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی ۔۔۔۔ تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی" انکی آہ و بکا سن کر دیگر زائرین لوگ متوجہ ہوگئے اور انکے غم میں شریک ہونے کے لیے انکے قریب پہنچے۔
وہ صاحب ابھی بھی قبر کی مٹی اٹھا کر آنکھوں سے لگاتے۔ اپنے سر میں ڈالتے۔ سر پیٹتے اور روتے چلاّتے یہی کہتے جاتے
"تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی ۔۔ تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی ۔۔۔۔ تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی"
لوگوں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا
" دیکھیے جناب۔ مرنے والوں کا سب کو دکھ ہوتاہے۔ لیکن یہ آخر کون ہے جس کے غم میں آپ یوں نڈھال ہوئے جارہے ہیں؟
آپکے بیٹے، والد، بہن بھائی یا ۔۔۔۔ کوئی اور۔۔؟؟؟"
ان صاحب نے ہچکیوں کے درمیاں لوگوں کو بتایا
" یہ میری بیوی کے پہلے شوہر کی قبر ہے "










ایک عورت گالف کھیل رہی تھی کہ ایک ہٹ کے بعد اس کی گیند قریبی جنگل میں‌جا گری، بال ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ جھاڑیوں میں پہنچ گئ جہاں گیند پڑی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ادھر ایک مینڈک کانٹے دار جھاڑی میں پھنسا ہوا ہے۔ مینڈک نے عورت کو دیکھ کر کہا، خاتون اگر آپ مجھے ان کانٹوں سے نجات دلا دیں گی تو میں آپ کی تین خواہشات پوری کروں گا۔ یہ سن کر خاتون نے فوراً ہاتھ بڑھا کر مینڈک کو کانٹوں سے نجات دلا دی۔

مینڈک نے کانٹون سے نجات پا کر شکر ادا کیا اور خاتون سے کہنے لگا جی اب آپ کہیں کیا خواہش ہے آپ کی، مگر میں معافی چاہتا ہوں‌کہ میں‌آپ کو یہ بتانا بھول گیا کہ آپ جو کچھ مانگیں گی، آپ کے شوہر کو وہی چیز دس گنا ملے گی۔

خاتون کو یہ سن کر بڑا غصہ آیا، خیر انہوں نے کہا کوئ بات نہیں۔

میری پہلے خواہش ہے کہ میں‌دنیا کہ سب سے خوبصورت عورت بن جاؤں۔ مینڈک نے کہا سوچ لیں آپ کا شوہر دس گنا خوبصورت ہو جائے گا؟ کوئ بات نہیں، میں سب سے خوبصورت ہوں گی، تو وہ مجھے ہی دیکھے گا خاتون نے کہا۔ مینڈک نے کوئ منتر پڑھا اور خاتون بے حد خوبصورت ہو گیئں۔

دوسری خواہش کہ میں سب سے امیر ہو جاؤں۔ مینڈک نے کہا سوچ لیں آپ کا شوہر آپ سے بھی دس گنا امیر ہو جائے گا؟ خاتون نے کہا کوئ مسئلہ نہیں اس کی دولت یا میری، ایک ہی بات ہے۔ مینڈک کا منتر اور وہ خاتون شوں کر کے امیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جی خاتون آپ کی تیسری خواہش؟ مینڈک نے پوچھا؟

مجھے ایک ہلکا سا دل کا دورہ یعنی ہارٹ اٹیک ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔

اس کہانی کا سبق:‌خواتین بہت چالاک ہوتیں‌ہیں، ان سے زیادہ ہوشیاری اچھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔






خواتین پڑھنے والیوں کے لیئے: یہ لطیفہ ختم - اب آپ آرام سے اس سے مزے لیں اور بس۔۔۔۔۔۔

حضرات آپ آگے پڑہیں۔۔۔۔ آپ کیلیئے کچھ اور ہے آگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔









جی جناب - خاتون کے شوہر کو خاتون کے مقابلے میں دس گنا ہلکا ہارٹ اٹیک ہوا۔

اس کہانی کا سبق: خواتین خود کو بہت عقلمند سمجھتی ہیں حالانکہ ایسا ہے نہیں
انہیں یہ مسجھتے رہنے دیں اور محظوظ ہونے دیں‌

اگر کوئ خاتون ابھی تک یہ پڑہ رہی ہیں‌تو وہ اس بات کا ثبوت دے رہی ہیں کہ عورت سنتی نہیں ہے











ایک صبح ٹیچر کلاس روم میں کیمرہ لے آئی اور بچوں کو بتایا کہ ہم آپ کی یادگار اجتماعی تصویرں بنائیں گے تاکہ جب آپ بڑے ہوجاؤ تو یاد کرو کہ
یہ کاشفی ہے۔۔ اب یہ انجینئیر ہے
اور یہ مریم ہے۔۔ اب یہ ویلی ہے اور ویاہ کا انتظار کرہی ہے
یہ نعیم ہے ۔ اور یہ ابھی تک کنوارہ ہے
یہ عبدالجبار ہے۔۔ یہ ترقی کرکے منتظم اعلی بن گیا ہے
وغیرہ وغیرہ ۔

اتنے میں پیچھلے بنچوں سے ایک بچے کی آواز آئی
اور یہ ہماری ٹیچر ہے۔۔ اب یہ فوت ہوچکی ہے












ٹیچر نے ننھے جمی کا ہوم ورک چیک کیا تو غصے سے بولی۔
اتنا گندہ مضمون تو میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ ایک جملہ بھی درست نہیں لکھا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ایک آدمی اتنی غلطیاں کیسے کرسکتا ہے

“ایک آدمی نہیں مِس “ بچے نے ڈرتے ڈرتے کہا
“میری امی نے بھی ابو کی ہیلپ کی تھی“












ایک فرم کے باس کو اچانک چھٹی والے دن اپنے اکاؤنٹنٹ کی ضرورت پڑ گئی ۔ اس نے اکاؤنٹنٹ کو بلانے کے لیے اسکے گھر فون کیا تو اکاؤنٹنٹ کے 4 سالہ بچے کی معصوم دھیمی سی آواز آئی “ہیلو“۔
باس : “بیٹے آپکے ابو گھر پہ ہیں ؟
بچہ: “جی“
باس :“کیا میں ان سے بات کر سکتا ہوں ؟“
بچہ: “نہیں“
باس ایک لمحے کو چونکا۔ پھر سوچا ممکن ہے باپ واش روم میں ہو۔ کسی بڑے سے بات کرنے کے خیال سے باس نے پھر پوچھا
: “اچھا۔ بیٹا یہ بتاؤ کیا آپکی امی گھر پہ ہیں “؟
بچہ: “جی“
باس :“کیا ان سے بات ہو سکتی ہے؟“
بچہ : “جی نہیں“
باس حیران ہوگیا۔ ایک کوشش پھر کی
“اچھا بیٹے کوئی اور بڑا آپکے قریب میں ہے ؟“
بچہ : “جی ایک پولیس والا ہے “
باس پریشان ہوگیا۔ پوچھا “پولیس والا آپکے گھر میں‌کیا کر رہا ہے “؟
بچہ :“وہ میرے امی ابو سے باتیں کر رہا ہے “
اب تو باس کی پریشانی بڑھ گئی ۔ اس کے دل سے دعا نکلی خدا خیر کرے۔ اچانک اسے فون پر پولیس گاڑی کے سائرن کی آواز سنائی دی۔ اس نے گھبرا کے بچے سے پوچھا
“بیٹا یہ پولیس گاڑی کا سائرن کیوں‌گونج رہا ہے ؟“
بچہ: “اب کافی سارے پولیس والے آگئے ہیں“ بچے کی آواز اب بھی سرگوشی جیسی تھی۔
باس کی پریشانی انتہا کو پہنچ گئی ۔ پوچھا “لیکن بیٹا ۔اتنے پولیس والے آپکے گھر میں کیا کر رہے ہیں؟“
بچہ : (ہنستے ہوئے) “ہی ہی ہی۔۔ یہ سارے مجھے ڈھونڈ رہے ہیں“







میڈم نے اپنی کلاس میں بچوں سے پوچھا
یقین اور وہم میں کیا فرق ہے۔
شاگرد: میڈم آپ پڑہا رہی ہیں یہ یقین ہے اور ہم پڑھ رہے ہیں یہ آپکا وہم ہے ۔






استاد بچوں سے : اچھا گرامر کے لحاظ سے بتاؤ کہ یہ کونسا زمانہ ہے۔ “ بچے نقل کر رہے ہیں“
ننھا بچہ : جناب یہ “ امتحان“ کا زمانہ ہے











ایک بچہ دوسرے سے : پتہ ہے یار، میرے ابو بہت بزدل ہیں۔ اکثر میرا سہارا لیتے ہیں۔

دوسرا بچہ : اچھا ؟ وہ کیسے ؟

پہلا بچہ : جب بھی سڑک پار کرنے لگتے ہیں تو ڈر کے مارے میرا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں


_________________
Muhammad Tariq Raheel
TariqRaheel@GMail.Com
Sun Aug 31, 2008 11:57 am View user's profile Send private message Send e-mail AIM Address Yahoo Messenger MSN Messenger ICQ Number
ahmet2910
Senior Member Pakistani
Senior Member Pakistani


Joined: 21 Jun 2008
Posts: 909

Reply with quote
VERY SORRY

KIYA KAROON MUJH SEY URDU KA YEH KHAT NAHIN PARHA JATA
Tue Sep 09, 2008 3:49 pm View user's profile Send private message
rajakamran85
Pak Newbie


Joined: 10 Sep 2008
Posts: 6

Reply with quote
Razz
Wed Sep 10, 2008 3:48 am View user's profile Send private message
musharaf.siraj
Senior Member Pakistani
Senior Member Pakistani


Joined: 04 Aug 2008
Posts: 927
Location: Riyadh, Saudi Arabia

Reply with quote
Shocked Rolling Eyes Smile Laughing
Wed Sep 10, 2008 11:11 am View user's profile Send private message Send e-mail Yahoo Messenger MSN Messenger
TariqRaheel
Full PK Member
Full PK Member


Joined: 28 Aug 2007
Posts: 107
Location: Karachi

Reply with quote
ahmet2910 wrote:
VERY SORRY

KIYA KAROON MUJH SEY URDU KA YEH KHAT NAHIN PARHA JATA



ap ki nai Ankhon ki kharabi lagti hai

bhai Forum Pakistan pr hain
or Zaban Urdu se nawaqif bari be sharmi se keh rahe hain ap Mad

_________________
Muhammad Tariq Raheel
TariqRaheel@GMail.Com
Wed Sep 10, 2008 7:04 pm View user's profile Send private message Send e-mail AIM Address Yahoo Messenger MSN Messenger ICQ Number
bbrazaq
Pak Newbie


Joined: 06 Aug 2008
Posts: 21

zardari Reply with quote
jin, kia hukam hay meray aqa,
aqa, mulk ka sara khazana meray account main daal do
jin. sar hukam karain, bakwwas na karain, main jin hum zardari nahi

Fri Sep 12, 2008 3:35 am View user's profile Send private message Send e-mail
adeebafarooq
Pak Newbie


Joined: 16 Sep 2008
Posts: 8

Reply with quote
bahot achy yar .... shukriya
Wed Sep 17, 2008 6:10 pm View user's profile Send private message
kinguhde
Moderator
Moderator


Joined: 06 Jul 2008
Posts: 6832
Location: Kingdom of Saudi Arabia

Reply with quote
Laughing

_________________
Thu Sep 18, 2008 11:56 am View user's profile Send private message
shakeelmscw
Shayari Moderator
Shayari Moderator


Joined: 22 Aug 2007
Posts: 5392
Location: United Arab Emirates

Re: zardari Reply with quote
bbrazaq wrote:
jin, kia hukam hay meray aqa,
aqa, mulk ka sara khazana meray account main daal do
jin. sar hukam karain, bakwwas na karain, main jin hum zardari nahi


Laughing Laughing Laughing Crying or Very sad

_________________
*(`'ท.ธ(`'ท.ธ*ค*ธ.ท'ด)ธ.ท'ด)*
ซดจ`ท.Shakeel Ahmed ..ทดจ`ป
*(ธ.ท'ด(ธ.ท'ด*ค*`'ท.ธ)`'ท.ธ)*

(((**A happy person is not a person in a certain set of circumstances, but rather a person with a certain set of attitudes**))
Tue Sep 23, 2008 11:44 pm View user's profile Send private message Send e-mail Yahoo Messenger MSN Messenger
javed1966
Pak Newbie


Joined: 15 Sep 2007
Posts: 35

Reply with quote
Thanks for this post. I was looking something cool like this.
Thu Sep 25, 2008 10:44 pm View user's profile Send private message
s0ul_mate1@yahoo.com
Senior Member Pakistani
Senior Member Pakistani


Joined: 10 Aug 2008
Posts: 626
Location: khatmando

Reply with quote


_________________
________
ALLAHU...
Mon Sep 29, 2008 6:13 pm View user's profile Send private message Send e-mail MSN Messenger
kkhan23
Pak Newbie


Joined: 20 Oct 2008
Posts: 1
Location: montreal

Reply with quote
goo job nigga
Mon Oct 20, 2008 5:27 am View user's profile Send private message AIM Address ICQ Number
imranjd
Pak Newbie


Joined: 10 Aug 2008
Posts: 6

Reply with quote
TariqRaheel wrote:
ڈر ڈر کے شیخ پڑھتے ہیں لا حول آج کل
شیطاں کے پاس رہتا ہے پستول آج کل

موٹر بھگائے پھرتا ہے لیلیٰ کے واسطے
مجنوں کو ہے ضرورت پٹرول آج کل

This is a good joke but we have to say the jokes that are easy to understand, meaningful and socialy and religiousely standard. Because if we post an unsocial joke may people appriciate it but it may harm the brains of young generation.
Hope My friends will never mind it. And Try to work on it.

Thanks







بولا دکاندار، کہ کیا چاہیئے تمہیں
جو بھی کہو گے میری دکان پر وہ پاؤ گے
میں‌نے کہا کہ کتے کہ کھانے کا کیک ہے
بولا یہیں پہ کھاؤ گے یا لے کے جاؤ گے






جسے دل دیا وہ دہلی چلی گئی
جسے پیار کیا وہ اٹلی چلی گئی
دل نے کہا خودکشی کر لے ظالم
بجلی کو ہاتھ لگایا تو بجلی چلی گئی

واہ واہ ۔۔۔ کیا خوب کہا ہے۔۔۔ دوبارہ ارشاد۔۔۔

جسے دل دیا وہ دہلی چلی گئی
جسے پیار کیا وہ اٹلی چلی گئی
دل نے کہا خودکشی کر لے ظالم
بجلی کو ہاتھ لگایا تو بجلی چلی گئی









ًمحکمہ تو لٹ گیا ان چپراسیوں سے
گھر تو لٹ گیا ان آدھے گھروالوں سے

خزانہ خالی کرکے چھوڑا بے دردی سے
پوچھا کسی نے نہیں ان موالیوں سے

یہ سیاسی خدمت گزار معصوم سے
گھر ھی لٹ گیا، گھر کے چراغوں سے









عہدہ ملے یا نہ ملے، چمچہ بننا ھی عقلمندی ھے
مفت کی بدمعاشی، اور کیا خوب غنڈہ گردی ھے

چمچہ کے پاور کو اب، اتنا بھی کمزور نہ سمجھو
ایک اشارے سے اب، بڑے بڑوں کی اترتی وردی ھے

کس چیز کا لائیسنس، بھیک مانگنے کا بھی ھے
ایک ٹیلفون گھمانے پر، منظوری بھی دے دی ھے

سولی چڑھا دو ایمان، ساتھ ارمان کو بھی
کسےحساب دینا ھے، کس بات کی جلدی ھے











ایک پاگل خانے میں ایک پاگل سوئمنگ پول کے کنارے ٹہل رہا تھا جب اس نے دیکھا کہ ایک پاگل لڑکی نے سوئمنگ پول میں چھلانگ لگائی اور اسکی تہہ میں جا کر غائب ہوگئی ۔ پاگل نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ فوراً تالاب میں کودا ۔ تیرتا ہوا تہہ تک پہنچا اور لڑکی کو باہر نکال کر لے آیا۔
پاگل خانے کے ڈائریکٹر تک جب یہ خبر پہنچی تو اس نے پاگل کو بلایا اور اسے کہا کہ تمھارے لیے ایک اچھی خبر ہے اور ایک بری خبر۔
اچھی خبر یہ ہے کہ کل جس طرح تم نے ایک لڑکی کو ڈوبنے سے بچایا ہے اس پر ہمارے بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمھارے اندر انسانی ہمدردی کے جذبات زندہ ہوچکے ہیں اور تمھارا دماغ کام کرنا شروع ہوگیا ہے۔ لہذا تمھیں گھر جانے کی اجازت ہے۔
“اچھا جی “ پاگل خوشی سے اچھل پڑا “لیکن بری خبر کیا ہے؟“
“بری خبر یہ ہے کہ تم نے جس لڑکی کو تالاب سے نکال کر جان بچائی تھی ۔ اس نے چھت پر جاکر گلے میں رسی ڈال کر خود کشی کر لی ہے۔اور۔۔۔۔۔ “
“نہیں جناب “ پاگل نے جلدی سے بات کاٹ کر کہا “اس نے خود کشی نہیں‌کی ۔ وہ تو میں نے اسے پانی سے نکال کر سوکھنے کے لیے چھت پر رسی سے لٹکا دیا تھا۔ اب یہ بتائیے کہ میں گھر کب جا سکتا ہوں ؟“








پاگل ڈاکٹر سے
ڈاکٹر صاحب میں نے100 صفحوں کی کتاب لکھی ہے کیا آپ پڑہنا پسند کریں گے
ڈاکٹر : کیوں نہیں ہوسکتا ہے کہ کتاب لکھنے سے آپ کو پاگل خانے سے رہائی مل جائے
پاگل نے کتاب میں لکھا :
پہلے صفحہ پر: گھوڑا کیسے دوڑتا ہے ۔
باقی 99 صفحوں پے لکھا تھا ۔
-
-
-
-
-
-
-
-
-
-
-
-
-
-
-
-
--
-
دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ دگڑ




ایک آدمی اپنی گاڑی کے پاس آیا تو دیکھا کہ ایک ٹائر کے چاروں پیچ غائب ہیں۔ بہت پریشان ہوا کہ اب کیا کروں۔ ساتھ ہی پاگل خانہ تھا جس کی کھڑکی سے ایک پاگل باہر جھانک رہا تھا۔ پاگل نے آواز لگائی ۔۔۔۔ باقی تین ٹائروں سے ایک ایک پیچ کھول کر لگا لو۔
آدمی کو پریشانی کا حل ملا اور حیرت سے پاگل کی طرف دیکھ کر بولا ۔۔۔۔ تم پاگل خانے میں قید ہو مجھے تو تم بالکل پاگل نہیں لگتے۔۔۔۔ پاگل بولا میں پاگل ہوں کوئی بیوقوف نہیں ۔۔۔۔








ایک پاگل کار چلاتے ہوئے جا رہا تھا ۔ کار کی پچھلی سیٹ پر 20 بطخیں بیٹھی تھیں۔ راستے میں پولیس والے نے روکا اور پوچھا یہ تمہارے پچھلی سیٹ پر کیا ہے؟ پاگل نے کہا “یہ ساری میری بیویاں ہیں“ پولیس والا سمجھ گیا کہ یہ پاگل ہے۔ چنانچہ پاگل سے بولا ۔ اچھا ایسا کرو انہیں زو (چڑیا گھر) لے جاؤ۔
پاگل نے رضامندی سے سر ہلایا، گاڑی موڑی اور چلا گیا۔ اگلے دن پھر وہی پاگل انہیں 20 بطخوں کو پچھلی سیٹ پر بٹھائے پھر ادھر ہی جا رہا تھا۔اسی پولیس والے نے اسے پھر روک لیا ۔ اور کہا کہ میں نے تمھیں کہا تھا کہ اپنی بیگمات کو چڑیاگھر لے جاؤ۔
“لے گیا تھا“ پاگل نے کہا۔۔ “ آج انکو سینما لے جارہا ہوں“





صدر صاحب نے پاگل خانے کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔ دورے کے دوران ایک پاگل نے صدر صاحب کو روکا اور پوچھا ۔۔۔ تم کون ہو؟ ۔۔۔۔ صدر صاحب نے جواب دیا میں‌ صدر پاکستان ہوں ۔۔۔ پاگل بولا کوئی بات نہیں ٹھیک ہو جاؤ گے جب میں‌نیا آیا تھا تو میں بھی یہی کہتا تھا۔




بیوی: میں نے کہا جی ! تم مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو؟
شوہر: اتنی محبت جتنی شاہ جہاں کو ممتاز سے تھی
بیوی: (خوشی سے) اوہ سچی ؟ تو کیا تم میرے مرنے کے بعد میری یاد میں تاج محل بنواؤ گے۔
شوہر: میری جان میں نے تو پلاٹ خرید بھی لیا ہے۔ اب تمہاری طرف سے ہی دیر ہے۔



پاگل خانے میں برسہا برس گذارنے کے بعد ایک پاگل کو اسکے اطمینان بخش رویے کے باعث‌ اسے گھر بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن اس سے پہلے میڈیکل آفیسر نے اس پاگل کو اپنے آفس بلایا اور بتایا کہ میڈیکل بورڈ اسے گھر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کیا تم بتانا پسند کرو گے کہ گھر واپس جا کر تم زندگی کیسے گذارو گے ؟
" ڈاکٹر صاحب " پاگل نے سنجیدگی سے بولنا شروع کیا " مجھے اپنی نارمل زندگی میں جانے کی بہت خوشی ہوگی ۔ میں کوشش کروں‌گا کہ سابقہ غلطیوں سے درگذر کروں۔ دراصل میں ایٹمی سائنسدان تھا اور بہت زیادہ کیمیائی اور ایٹمی ہتھیار بنانے کی وجہ سے اور دن رات اسی کام میں‌لگا رہنے کی وجہ سے میں‌پاگل خانے پہنچا تھا۔ لیکن اب میں واپس جا کر پریکٹیکل ہتھیار بنانے کی بجائے صرف تھیوری پر کام کروں گا۔ مجھے امید ہے اس سے مجھ پر ذہنی دباؤ کافی کم ہوگا۔
" ویری گڈ " ڈاکٹر نے ستائش آمیز لہجے میں کہا۔
اور پاگل نے بات جاری رکھی
" اگر تھیوری ورک سے بھی مجھے کچھ کوفت محسوس ہوئی تو پھر میں ایٹامک سائنسز میں پروفیسر شپ شروع کردوں گا۔ امید ہے کہ اس سے میرے ضمیر کو بھی اطمینان ملے گا کیونکہ میں اپنے وطن کے لیے سائنسدانوں کی پوری نسل تیار کر سکوں‌گا۔"
" بہت شاندار آئیڈیا ہے " ڈاکٹر بہت ہی خوش ہو رہا تھا۔
" اگر کسی وجہ سے اوپر والے تینوں آپشنز میں سے کسی پر بھی کام نہ کر سکا ۔ تو پھر میں گھر بیٹھ کر اپنی زندگی کے تجربے پر کتاب لکھوں گا۔ مجھے امید ہے کہ میرے ملک اور آئندہ نسلوں کے لیے ایٹامک سائنسز کی دنیا میں ایک عظیم خزانہ ثابت ہوگی۔
" واؤ۔ ایکسلینٹ ۔ ہمارے وطن کو واقعی ایسے انٹیلیکچوئیلز کی بہت ضرورت ہے" ڈاکٹر اٹھ کر پاگل کو عزت و احترام سے گلے لگانے کے لیے آگے بڑھا ہی تھا کہ پاگل نے اسی وقت ایک اور جملہ بولا
" اور ڈاکٹر صاحب ! اگر اوپر والے سارے راستوں میں سے کوئی بھی راستہ اختیار نہ کرسکا تو پھر میں واپس ریلوے سٹیشن پر پان سگریٹ والا کھوکھا دوبارہ شروع کردوں گا۔"








پاگل خانے کی ریسپشن پر ٹیلفون بجا ۔ ریسپشنسٹ نے ٹیلیفون اٹھایا تو دوسری جانب سے ایک صاحب نے پوچھا ۔
" میڈم ۔ کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ اس وقت روم نمبر 27 میں کون ہے " ؟
ریسپشنسٹ نے ہولڈ کروایا۔۔۔ جا کر روم نمبر 27 چیک کیا ۔۔ خالی پا کر فون والے صاحب کو اطلاع دی کہ روم نمبر 27 خالی ہے۔
" اوہ ۔ خدایا تیرا شکر ہے۔ اس کا مطلب ہے میں واقعی پاگل خانے سے فرار ہوچکا ہوں "

Mon Oct 20, 2008 6:20 pm View user's profile Send private message
bsulehri
Pak Newbie


Joined: 08 Nov 2008
Posts: 6

Re: Lateefa's Reply with quote
TariqRaheel wrote:
ایک آدمی مچھلی کا شکار کر کے لایا اور بیگم سے کہا کہ اسے پکا کے کھلاؤ تو بیگم نے جواب دیا
نہ بجلی ہے نہ گیس ہے نہ پانی ہے نہ آٹا ہے اور نا کوکنگ آئل ہے
آدمی مچھلی کو دریا میں واپس چھوڑ کے آ رہا تھا تو مچھلی نے پانی میں سے سر باہر نکال کر زور سے نعرہ لگایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ok







جیو مشرف
------------------------------------------------------------------------------------------------
چاند کو توڑ دونگا۔۔۔سورج کو پھوڑ دونگا۔۔۔۔۔۔
تو ایک بار ہاں‌ کہہ دے۔۔۔۔ پہلی والی کو چھوڑ دونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















دوکاندار:
میں آپ سے پچھلے تین دن سے کہہ رہا ہوں کہ ہم سکھوں کو چیزیں نہیں بیچتے اور تم روزانہ حلیہ بدل کر خریداری کے لئے چلے آتے ہو۔

سردار جی:
چلو میں آئندہ نہیں آؤں گا، مگر آپ یہ تو بتائیں کہ آپ کو یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ میں سکھ ہوں؟

دوکاندار:
جسے تم روزانہ الماری سمجھ کر خریدنے کی کوشش کرتے ہو وہ اصل میں فریج ہے۔











پنجاب کے علاقے میں پاک بھارت سرحد پر جھڑپیں جاری تھیں۔ بھارتی فوج سکھوں پر مشتمل تھی۔ رات اتنی کالی تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ اب خالی خولی فائرنگ کا کیا فائدہ!

پاکستانی فوجیوں نے مشورہ کیا کہ اب کیا کیا جائے!!! ایک ذہین فوجی نے کہا کہ سکھوں میں اکثر نام 'رام سنگھ' ہوتا ہے۔ ہم میں سے وقفے وقفے سے "رام سنگھ" کا نام لے کر آواز دیں گے، جدھر سے آواز آئے گی، گولی مار دیں گے۔

میٹنگ ختم ہوئی، سب نے اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں۔ ایک فوجی نے آواز لگائی: "رام سنگھ"۔ ادھر سے جواب آیا: "ہاں"۔ ساتھ ہی ایک ٹھاہ کی آواز بلند ہوئی اور رام سنگھ مارا گیا۔

چند منٹ بعد پھر ایک فوجی کی آواز آئی: "رام سنگھ"۔ جواب آیا: "ہاں"۔ ساتھ ہی ٹھاہ۔

جب چار پانچ رام سنگھ ڈھیر ہو گئے تو سکھوں نے بھی میٹنگ بھلا لی۔ ایک ذہین سکھ فوجی نے مشورہ دیا کہ ہم بھی ان کے ساتھ وہی کرتے ہیں جو انہوں نے ہمارے ساتھ کیا۔ مسلمانوں میں اکثر نام "اللہ رکھا" ہوتا ہے۔ وقفے وقفے سے آوازیں لگا کر ان کے سارے اللہ رکھے مار دیتے ہیں اور اپنا بدلہ لے لیتے ہیں۔

ذہین سکھ فوجی کا یہ مشورہ سب نے بہت پسند کیا اور اسے کندھوں پر اٹھا لیا۔ میٹنگ کے بعد سب نے اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں۔ تھوڑی دیر کے بعد اسی ذہین سکھ فوجی نے آواز لگائی: "اللہ رکھا"۔

ادھر سے جواب آیا: "اللہ رکھا چھٹی پر ہے۔ تم کون ہو، رام سنگھ"؟ اس نے کہا: "ہاں"۔ ساتھ ہی آواز آئی ٹھاہ اور ذہین سکھ فوجی مارا گیا۔










ایک سردار جی ویسٹ انڈیز انڈیا سیریز کے میچ دیکھنے کے لئے ویسٹ انڈیز گئے انھوں نے ویسٹ انڈیز کے ساحلوں کے بارے بہت سن رکھا تھا سو وہ سمندر کنارے سن باتھ کے لئے چلے گئے
کچھ دیر گزری تھی کہ ایک انگریز کا گزر ہوا اور اس نے سردار جی سے پوچھا آر یو ریلیکسنگ ؟

سردار جی بولے نو نو آئی ایم ناٹ ریلیکسنگ
آئی ایم ہرنام سنگھ

کچھ دیر مزید گزری کہ ایک سیاہ فام عورت نے گزرتے ھوئے پھر وہی سوال دہرایا

سردار جی کا جواب پھر وہی تھا

خیر جو بھی وہاں سے گزرتا وہ یہی پوچھتارہا سردار جی کا سکون غارت ہو گیا
اور وہ آگ بگولا ہو کر ایک طرف چل دیئے
کچھ دور جانے کے بعد ان کو ایک اور سردار منہ پر ہیٹ لئے لیٹا نظر آیا

ہرنام سنگھ نے اس کے منہ سے ہیٹ پیچھے کیا اور پوچھا


آر یو ریلیکسنگ ؟
دوسرے سردار جی نے جواب دیا
یس آئی ایم ریلیکسنگ

ہرنام سنگھ نے ایک زور کا طمانچہ اس کے منہ پر مارا اور کہا

“اوئے کھوتے دے پتر توں ایتھے پیا ایں تے اوتھے تینوں سارے لب رئے نیں“

_________________











ایک سردار ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑہ ڈال رہا تھا۔ محلے والے ڈھول کی اونچی آواز سے تنگ ہو رہے تھے۔ ایک ہمسایہ تنگ آکر بھنگڑہ ڈالنے والوں کے گھر گیا اور پوچھا۔
“سردار جی ۔۔۔۔ کیہہ گل اے، ایہہ بھنگڑہ کس خوشی وچ پا رئے او؟“

سردار جی نے ناچتے ناچتے جواب دیا۔
“ساڈے بھائی جوگندر سنگھ فوت ہو گئے نیں، ایسے واسطے!“

ہمسائے نے حیران ہو کر کہا
“سردار جی ۔۔۔ اک تہڈا بھرا مریا اے، اتوں تسی خوش ہو کے بھنگڑہ پا رئے او؟ ایہہ کوئی خوشی دا ویلا اے؟“

سردار جی کہا
“بھرا جی! ساڈے واسطے ایہہ خوشی دا موقع اے!“

ہمسائے نے پوچھا
“اوہ کس طراں؟“

سردار جی کہا
“دیکھو جی پوری دنیا کہندی اے سکھ بے وقوف ہندے نیں!
اہنادا دماغ ای نئیں ہوندا، بھائی ہوری دماغ دے کینسر نال مرے نیں۔۔۔۔۔اج پہلی واری ثابت ہو گیا اے کہ سکھاں دا وی دماغ ہوندا ہے۔۔۔۔۔ ورنہ کینسر نہ ہوندا، تسی جاؤ سانوں بھنگڑہ پان دیو!“










پرنام سنگھ بڑا نامي گرامي پائلٹ تھا ايک دفعہ اسے جہاز کو لندن سے امريکہ لے جانا تھا آٹھ گھنٹے کي اس طويل پرواز ميں جہاز سمندر پر اڑتا ھے۔ جھاز کو پرواز کئے چار گھنٹے گزر چکے تھے کچھ مسافر سو رھے تھے کچھ جاگ رھے تھے۔ اچانک سپيکر پر کپتان کي آواز ابھري "خواتين و حضرات ۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاز کا کپتان پرنام آپ سے مخاطب ھے۔ نيويارک جانے والي پرواز پر ھم چار گھنٹے کا سفر کر چکے ہيں، ٣٥ فٹ کي بلندي پر سفر کرتے ھوئے ھم اس وقت بحراوقيانوس کے عين درميان ميں ھيں"

"اگر آپ دائيں بائيں کي کھڑکيوں سے باھر جھانک کر ديکھيں تو آپ کو نظر آئے گا کہ جہاز کے چاروں انجنوں ميں آگ لگي ھوئي ھے"

"اگرآپ جہاز کے پچہلے حصے ميں جاکر ديکھيں تو پتا چلے گا کہ جھاز کي دم چند لمحوں بعد ٹوٹ کر عليحدہ ھو جائے گي"

“اگر آپ جہاز کي کھڑکي سے نيچے سمندر ميں ديکھيں تو آپ کو پيلے رنگ کي چھوٹي سي لائف بوٹ نظرآئے گي، جس ميں سوار تين آدمي آپ کي طرف ديکھ کر ہاتھ ھلا رھے ھيں"

“يہ تين آدمي، ميں پرنام سنگھ، ميرا معاون پائلٹ کورنام سنگھ اور نيوي گيٹر بنتاسنگھ ھيں۔ سپيکر پر جو آواز آپ سن رھے ھيں وہ پہلے سے ريکارڈ شدہ ھے، واہِ گرو آپ کو اپني پناہ ميں کہے، اجازت چاھتا ھوں ست سري اکال"







سردار جی نے نیا گھر بنوایا اور سب دوستوں کی دعوت کی۔

گھر کا ایک ایک کونہ دوستوں کو دکھایا۔ چلتے چلتے پچھلی جانب واقع لان میں پہنچ گئے، جہاں پانی کے دو تالاب تھے۔ ایک میں پانی تھا اور فوارے چل رہے تھے، دوسرا بالک خشک۔

پانی والے تالاب کی طرف اشارہ کر کے سردار جی نے کہا: اے تالاب میں اپنے نہاون واسطے بنوایا جے۔

ایک دوست پوچھتا ہے: سردار جی! اے دُوجا سکا تالاب کس واسطے بنوایا جے؟

سردار جی جواب دیتے ہیں: کدی بندے دا نہاون نوں دل نئیں وی کردا۔









امرتسر ریلوے اسٹیشن پر ٹرین چل پڑی
ایک سردار جی پاگلوں کی طرح ٹرین کے پیچھے بھاگ رہے تھے، میں ٹرین کے آخری ڈبے کے دروازے میں کھڑا ان کو بھاگتے دیکھ رہا تھا، بڑی مشکل سے جب وہ ٹرین کے پاس پہنچے تو میں نے ان کی طرف ہاتھ بڑھا دیا، سردار جی نے میرا ہاتھ تھاما اور ٹرین پر چڑھ گئے۔
میں نے کہا “واہ سردار جی بڑی ہمت ماری اے“
سردار جی بولے “یار کھے تے سوا ہمت ماری، جیہنو چڑھان آیا سی او تے تھلّے رہ گیا“
















ویسٹ انڈیز سے درگت بننے کے بعد ہرنام سنگھ کو شوق چرایا کہ چلو جرمنی میں فٹ بال کا ورلڈ کپ دیکھنے چلتے ہیں۔

چنانچہ وہ جرمنی پہنچے اور ان کو بڑی مشکل سے میچ دیکھنے کا ٹکٹ مل ہی گیا اور لگے میچ دیکھنے۔ تمام تماشائی اپنی اپنی ٹیموں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ ہرنام سنگھ فٹ بال کا میچ دیکھ کر بور ہو رہے تھے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ تمام کھلاڑی ایک ہی گیند کے پیچھے کیوں لڑ رہے ہیں۔

جب کافی دیر سردار جی کو کچھ سمجھ نہ آئی تو انھوں نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک تماشائی سے پوچھے تمام لوگ ایک گیند کے پیچھے لڑ کیوں رہے ہیں؟

تماشائی نے جواب دیا سردار جی یہ لڑ نہیں رہے بلکہ گول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

سردار جی بولے میں تو سمجھتا تھا کہ صرف سردار ہی بے وقوف ہوتے ہیں لیکن انگریز قوم تو ہم سے بھی ذیادہ بے وقوف ہے۔ فٹ بال تو پہلے ہی گول ھے اسے لاتیں مار مار کر اپنا وقت ضائع کر رہی ہے۔

_________________









ایک سردار جی جنرل سٹور سے شاپنگ کرتے ہوئے، دوکاندار سے پوچھتے ہیں:
“اس تیل کے ڈبے کا گفٹ کہاں ہے؟“
دوکاندار:
“سردار جی اس کے ساتھ کوئی گفٹ نہیں“
سردار جی:
“اوئے اس پر لکھا ہے ‘کولسٹرول فری













سرداروں کے 12 بجنے کی حقیقت جاننےکیلئے آج کے ایک بچے نے پلاننگ کی ۔۔۔۔ اور سردار جی کے راستے میں کھڑا ہوگیا جہاں سےوہ اپنی صبح و صبحُ (قریبا‘‘12 بجے) دہی لے کے گُزرا کرتے تھے۔
ٹائیم پوچھنے پر سردار جی نے ٹائیم دیکھنے کی کوشش میں دہی والے ہاتھ کو گُھما کے دہی گِرا دیا۔اور لگے بچے کو گھورنے۔۔۔۔!
بچہ بھاگ گیا۔
اگلے دن تصدیق کے خیال سے ایک بار پھر ٹائیم پوچھا تو سردار جی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر دہی گِرا بیٹھے ۔
تیسرے دن سردار جی بہت محتاط انداز میں خود بچے کو تلاشتی نگاہوں سےدیکھتے ۔۔۔ دہی والا برتن گھڑی والے ہاتھ کی بجائے دوسرے ہاتھ میں لیئے چلے آ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچے پر نگاہ پڑی ۔۔۔۔ بڑے انداز میں مُسکرائے اور بولے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مینوں پتا ۔۔۔ تُوں اج وی میرا دہی سُٹّن دے چکر اِچّ ایتھے کھڑا ایں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بڑے انداز سے گھڑی والے باتھ کو اونچا کر کے گھڑی دیکھتےہوئے (دہی والے ہاتھ کو عورتوں کی طرح اپنے ہی محور میں گھماتے ہوئے) بولے ۔۔۔۔۔ پر اج ساڈھے بارہ نیہئوں وجنے۔۔۔۔۔۔۔!!!










سردار جی نے جلدی میں ائیر پورٹ فون کر کے فلائیٹ کا ٹائیم پوچھا ۔۔۔ مبادہ لیٹ نہ ہو جائیں ۔
سردار جی :- او جی کلکتہ جاون والا جہاز کِدوں جائیگا۔۔۔؟
انکوائری سے جواب مِلا :- ؛؛ جسٹ اے منٹ ؛؛
سردار جی :- ؛؛ شکریہ؛؛
کہہ کے فون بند کر دیا۔

Sat Nov 08, 2008 7:23 pm View user's profile Send private message
fairy552
5 Star Member
5 Star Member


Joined: 05 Jun 2008
Posts: 3533

Reply with quote
Laughing

good job
Sun Nov 09, 2008 8:34 am View user's profile Send private message
amber ali
5 Star Member
5 Star Member


Joined: 04 Mar 2008
Posts: 4285
Location: LONDON

Reply with quote
Laughing Laughing Laughing
Tue Nov 11, 2008 7:20 pm View user's profile Send private message
ali61217
Senior Proud Pakistani
Senior Proud Pakistani


Joined: 22 Sep 2008
Posts: 1515
Location: Lahore, Pakistan

Reply with quote
chaa gay ho bro

_________________
When I got enuf confidence, da stage was gone. when I ws sure of losing, I won. wen I needed ppl da most, day left me. wen I learnt 2 dry my tears, I found a shouldr 2 cry on. wen I masterd d art ofhating, sombody startd loning me. & wen aftr waiting 4 dawn, I fel a sleep, D sun cme out. Dats LIFE.
Thu Nov 13, 2008 5:25 pm View user's profile Send private message Send e-mail Yahoo Messenger MSN Messenger
amber ali
5 Star Member
5 Star Member


Joined: 04 Mar 2008
Posts: 4285
Location: LONDON

Reply with quote
BILKUL
Thu Nov 13, 2008 5:41 pm View user's profile Send private message
amber ali
5 Star Member
5 Star Member


Joined: 04 Mar 2008
Posts: 4285
Location: LONDON

Reply with quote
BILKUL
Thu Nov 13, 2008 5:41 pm View user's profile Send private message
ali61217
Senior Proud Pakistani
Senior Proud Pakistani


Joined: 22 Sep 2008
Posts: 1515
Location: Lahore, Pakistan

Reply with quote
achay hein mujhay to aatay he nahi
Sad

_________________
When I got enuf confidence, da stage was gone. when I ws sure of losing, I won. wen I needed ppl da most, day left me. wen I learnt 2 dry my tears, I found a shouldr 2 cry on. wen I masterd d art ofhating, sombody startd loning me. & wen aftr waiting 4 dawn, I fel a sleep, D sun cme out. Dats LIFE.
Thu Nov 13, 2008 5:51 pm View user's profile Send private message Send e-mail Yahoo Messenger MSN Messenger
y2s1
Pak Newbie


Joined: 14 Nov 2008
Posts: 1

jokes Reply with quote
v good jok
Fri Nov 14, 2008 5:18 pm View user's profile Send private message
amber ali
5 Star Member
5 Star Member


Joined: 04 Mar 2008
Posts: 4285
Location: LONDON

Reply with quote
ali61217 wrote:
achay hein mujhay to aatay he nahi
Sad
kya
Sun Nov 16, 2008 10:32 pm View user's profile Send private message
Display posts from previous:    
Reply to topic    Forum Pakistan - Pakistani Forums Home » Jokes All times are GMT + 5 Hours
Goto page 1, 2, 3, 4  Next
Page 1 of 4

 
Gupshup Forum: Urdu ForumIslam ForumPakistan Army ForumAap Ka SheharNaukaryPakistani Visa
Desi Sports and News: Live CricketSports ForumAkhbar OnlinePakistan EventsWorld News Discussion
Entertainment Media: PTV ForumGEO ForumLollywood ForumBollywood OnlineHollywood ForumDesi Radio
Desi Masala Forums: Gupshup Chit ChatComputer GamesMusic ForumDrama ForumsGhazal ForumDesi FashionDesi Food
Official Forums (Government Department): Dak Khana ChatPolice ForumWapda OnlinePTCL ForumUfone ForumRailway ForumSehat Chit ChatTaleem OnlineTax Forum PKZameen ForumAdalat Forum


Pure Pakistani forum to express your views, thoughts with complete freedom. Archives 1 2
Copyright © ForumPakistan.com 2013 All rights reserved.

Contact Us | Advertise | Report Abuse | FP Team | Disclaimer