| Author |
Message |
|
|
askari.z55
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007 Posts: 1505
|
|
| Ibn e Insha key Mazameen |
|
کبوتر
کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔یہ آبادیوں میں جنگلوں میں، مولوی اسمعیل میرٹھی کی کتاب میں غرض یہ کہ ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔کبوتر کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ نیلے کبوتر ۔سفید کبوتر ، نیلے کبوتر کی بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ نیلے رنگ کا ہوتا ہے سفید کبوتر بالعموم سفید ہی ہوتا ہے۔کبوتروں نے تاریخ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ شہزادہ سلیم نے مسماۃ مہر النساء کو جب کہ وہ ابھی بے بی نورجہان تھیں ۔کبوتر ہی تو پکڑایا تھا جو اس نے اڑا دیااور پھر ہندوستان کی ملکہ بن گئی۔یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس سارے قصے میں زیادہ فائدے میں کون رہا؟ شہزادہ سلیم؟ نورجہاں؟ یا وہ کبوتر؟ رعایا کا فائدہ ان دنوں کبھی معرض بحث میں نہ آتا تھا۔پرانے زمانے کے لوگ عاشقانہ خط و کتابت کے لئے کبوتر ہی استعمال کرتے تھے۔اس میں بڑی مصلحتیں تھیں۔بعد میں آدمیوں کو قاصد بنا کر بھیجنے کا رواج ہواتو بعض اوقات یہ نتیجہ نکلا کہ مکتوب الیہ یعنی محبوب قاصد ہی سے شادی کر کے بقیہ عمر ہنسی خوشی بسر کر دیتا تھا۔چند سال ہوئے ہمارے ملک کی حزب مخالف نے ایک صاحب کو الٹی میٹم دے کر وائی ملک کے پاس بھیجا تھا۔الٹی میٹم تو راستے میں کہیں رہ گیا۔دوسرے روز ان صاحب کے وزیر بننے کی خبر اخباروں میں آ گئی۔طوطے کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا جاتا تو یہ صورت حال پیش نہ آتی۔
پیاسا کوا
ایک پیاسا کوے کو ایک جگہ پانی کا مٹکا پڑا نظر آیا۔ بہت خوش ہوا لیکن یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ پانی بہت نیچے فقط مٹکے کی تہہ میں تھوڑا سا ہے۔ سوال یہ تھا کہ پانی کو کیسے اوپر لائے اور اپنی چونچ تر کرے۔ اتفاق سے اس نے حکایات لقمان پڑھ رکھی تھی پاس ہی بہت سے کنکر پڑے تھے اس نے اٹھا کر ایک ایک کنکر اس میں ڈالنا شروع کیا۔ کنکر ڈالتے ڈالتے صبح سے شام ہوگئی۔ پیاسا تو تھا ہی نڈھال بھی ہوگیا۔ مٹکے کے اندر نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہے کہ کنکر ہی کنکر ہیں۔ سارا پانی کنکروں نے پی لیا ہے۔ بے اختیار اس کی زبان سے نکلا ہت ترے لقمان کی۔ پھر بے سدھ ہو کر زمین پرگرگیا اور مرگیا۔ اگر وہ کوا کہیں سے ایک نلکی لے آتا تو مٹکے کے منہ پر بیٹھا بیٹھا پانی کو چوس لیتا۔ اپنے دل کی مراد پاتا۔ہر گز جان سے نہ جاتا۔
اکبر
آپ نے حضرت ملا دو پیازہ اور بیربل کے ملفوظات میں اس بادشاہ کا حال پڑھا ہوگا، راجپوت مصوری کے شاہکاروں میں اس کی تصویر بھی دیکھی ہوگی، ان تحریروں اور تصویروں سے یہ گمان ہوتا ہے، کہ بادشاہ سارا وقت داڑھی گھٹوانے، مونچھیں تراشوائے، اکڑوں بیٹھا پھول سونگھتا رہتا تھا یا لطیفے سنتا رہتا تھا، یہ بات نہیں اور کام بھی کرتا تھا۔ اکبر قسمت کا دھنی تھا، چھوٹا سا تھا کہ باپ بادشاہ ستارے دیکھنے کے شوق میں کوٹھے سے گر کر جاں بحق ہو گیا، اور تاج و تخت اسے مل گیا، ایڈورڈ ہفتم کی طرح چونسٹھ برس ولی عہدی میں نہیں گزارنے پڑے، ویسے اس زمانے میں اتنی لمبی ولی عہدی کا رواج بھی نہ تھا، ولی عہد لوگ جونہی باپ کی عمر کو معقول حد سے تجاوز کرتا دیکھتے تھے اسے قتل کرکے، یا زیادہ رحم دل ہوتے تو قید کرکے، تخت حکومت پر جلوہ افروز ہوجایا کرتے تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ دن رعایا کی خدمت کا حق ادا کر سکیں۔
بابر
بابر شاہ سمر قند سے ہندوستان آیا تھا، تاکہ یہاں خاندان مغلیہ کی بنیاد ڈال سکے، یہ کام تو وہ بحسن و خوبی اپنے وطن میں بھی کرسکتا تھا، البتہ پانی پت کی پہلی لڑائی میں اس کی موجودگی ضروری تھی، یہ نہ ہوتا تو وہ لڑائی ایک طرفہ ہوتی، ایک طرف ابراہیم لودھی ہوتا دوسری طرف کوئی بھی نہ ہوتا، لوگ اس لڑائی کا حال پڑھ پڑھ کر ہنسا کرتے۔ یہ بادشاہ تزک لکھتا تھا، ٹوٹے پھوٹے شعر بھی کہتا تھا، پیشنگوئیاں بھی کرتا تھا، کہ عالم دوبارہ نیست اور دو آدمیوں کو بغل میں داب کر دوڑ بھی لگایا کرتا تھا، ظاہر ہے اتنی مصروفیتوں میں امور مملکت کیلئے کتنا وقت نکل سکتا تھا، شراب بھی پیتا تھا، یاد رہے، اس زمانے کے لوگوں کو مذہبی احکام کو ایسا پاس نہ تھا، جیسا ہمیں ہے، کہ محرم کے عشرہ کے دوران میں شراب کی دوکانیں بند رہتی ہیں، کسی کو پینی ہو تو گھر میں بیٹھ کر پئیے، کابل کو بہت یاد کرتا تھا، وہیں دفن ھوا، اس زمانے میں کابل شہر اتنا گندہ نہیں ہوتا تھا جتنا آجکل ہے۔
سوالات: 1۔ بابر نے خاندان مغلیہ کی بنیاد کیوں رکھی، خاندان تغلق یا خاندان موریا کی کیوں نہیں؟ 2۔ اگر پانی پت کی پہلی لڑائی میں بابر کے علاوہ ابراہیم لودھی بھی شریک نہ ہوتا تو اس کا کیا نتیجہ ہوتا؟
بھارت
یہ بھارت ہے، گاندھی جی یہی پیدا ہوئے تھے، لوگ ان کی بڑی عزت کرتے تھے، ان کو مہاتما کہتے تھے، چنانچہ مار کر ان کو یہیں دفن کر دیا اور سمادھی بنا دی، دوسرے ملکوں کے بڑے لوگ آتے ہیں تو اس پر پھول چڑھاتے ہیں، اگر گاندھی جی نہ مرتے یعنی نہ مارے جاتے تو پورے ہندوستان میں عقیدت مندوں کیلئے پھول چڑھانے کی کوئی جگہ نہ تھی، یہی مسئلہ ہمارے یعنی پاکستان والوں کے لئے بھی تھا، ہمیں قائدِ اعظم کا ممنون ہونا چاہئیے کہ خود ہی مرگئے اور سفارتی نمائندوں کے پھول چڑھانے کی ایک جگہ پیدا کردی ورنہ شاید ہمیں بھی ان کو مارنا ہی پڑتا۔ بھارت بڑا امن پسند ملک ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اکثر ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اس کے سیز فائر کے معاہدے ہوچکے ھیں،١٩٦٥ میں ہمارے ساتھ ہوا اس سے پہلے چین کے ساتھ ہوا۔ بھارت کا مقدس جانورگائے ہے ، بھارتی اس کا دودہ پیتے ہیں، اسی کے گوبر سے چوکا لیپتے ہیں، اور اس کو قصائی کے ہاتھ بیچتے ہیں، اس لئیے کیونکہ وہ خود گائے کو مارنا یا کھانا پاپ سمجھتے ہیں۔ آدمی کو بھارت میں مقدس جانور نہیں گنا جاتا۔ بھارت کے بادشاہوں میں راجہ اشوک اور راجہ نہرو مشہور گزرے ہیں۔ اشوک سے ان کی لاٹ اور دہلی کا شوکا ھوٹل یادگار ہیں، اور نہرو جی کی یادگار مسئلہ کشمیر ہے جو اشوک کی تمام یادگاروں سے زیادہ مظبوط اور پائیدار معلوم ہوتا ہے ۔ راجہ نہرو بڑے دھر ماتما آدمی تھے، صبح سویرے اٹھ کر شیر شک آسن کرتے تھے، یعنی سر نیچے اور پیر اوپر کرکے کھڑے ہوتے تھے، رفتہ رفتہ ان کو ہر معاملے کو الٹا دیکھنے کی عادت ہوگئی تھی، حیدر آباد کے مسئلہ کو انہوں نے رعایا کے نقطہ نظر سے دیکھا۔ یوگ میں طرح طرح کے آسن ہوتے ہیں، نا واقف لوگ ان کو قلابازیاں سمجھتے ہیں، نہرو جی نفاست پسند بھی تھے دن میں دو بار اپنے کپڑے اور قول بدلا کرتے تھے۔
پاکستان
حدود اربعہ پاکستان کے مشرق میں سیٹو ہے، مغرب میں سنٹو، شمال میں تاشقند اور جنوب میں پانی یعنی جائے مفر کسی طرف نہیں۔ پاکستان کے دو حصے ہیں، مشرق پاکستان اور مغربی پاکستان یہ ایک دوسرے سے بڑے فاصلے پر ہیں، اس کا اندازہ اب ہورہا ہے۔ دونوں کا اپنا اپناحدود اربعہ بھی ہے۔ مغربی پاکستان کے شمال میں پنجاب ، جنوب میں سندھ ، مشرق میں ہندوستان اور مغرب میں سرحد اور بلوچستان ہیں، یہاں پاکستان خود کہاں واقع ہے اور واقع ہے بھی نہیں اس پر آج کل ریسرچ ہورہی ہے۔مشرقی پاکستان کے چاروں طرف آج کل مشرقی پاکستان ہی ہے۔
دین الہی
دینیات کی طرف اکبر کے شغف کو دیکھتے ہوئے وزیر با تدبیر ابوالفضل نے اس کے ذاتی استعمال کیلئے دین الہی ایجاد کر دیا تھا، اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کے پہلے خلیفہ کی ذمہ داریاں خود سنبھال لی تھیں، چڑھتے سورج کی پوجا کرنا اس مذہب کا بنیادی اصول تھا، مرید اکبر کے گرد جمع ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ اے ظل الہی تو ایسا دانا و فرزانہ ہے کہ تجھ کو تاحیات سربراہ مملکت یعنی بادشاہ وغیرہ رہنا چاہیئے، اس کے نام کا وظیفہ پڑھتے تھے، اور اس کی تعریف میں وقت بے وقت بیانات جاری کرتے رہتے، پرسشتں کی ایسی رسمیں آج کل بھی رائج ہیں، لیکن ان کو دین الہی نہیں کہتے۔
ایک دعا
یا اللہ کھانے کو روٹی دے پہننے کو کپڑا دے رہنے کو مکان دے عزت اور آسودگی کی زندگی دے
میاں یہ بھی کوئی مانگنے کی چیزیں ہیں؟ کچھ اور مانگا کر بابا جی آپ کیا مانگتے ہیں؟ میں؟ میں یہ چیزیں نہیں مانگتا میں تو کہتا ہوں اللہ میاں مجھے ایمان دے نیک عمل کرنے کی توفیق دے
بابا جی آپ ٹھیک مانگتے ہیں انسان وہی چیز تو مانگتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی
ہمارا ملک
ایران میں کون رہتا ہے؟ ایران میں ایرانی قوم رہتی ہے؟ انگلستان میں کون رہتا ہے؟ انگلستان میں انگریز قوم رہتی ہے؟ فرانس میں کون رہتا ہے؟ فرانس میں فرانسیسی قوم رہتی ہے؟ یہ کون سا ملک ہے؟ یہ پاکستان ہے اس میں پاکستانی قوم رہتی ہوگی؟ نہیں اس میں پاکستانی قوم نہیں رہتی ؟ اس میں سندھی قوم رہتی ہے اس میں پنجابی قوم رہتی ہے اس میں بنگالی قوم رہتی ہے اس میں یہ قوم رہتی ہے اس میں وہ قوم رہتی ہے لیکن پنجابی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں؟ سندھی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں؟ بنگالی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں؟ پھر یہ ملک الگ کیوں بنایا تھا؟ غلطی ہوگئی معاف کردیجئے، آئندہ نہیں بنائیں گے؟
پانی پت
پانی پت میں اس وقت تک صرف ایک لڑائی ہوئی تھی پانی پت والوں کا اصرار تھا ایک اور ہونی چاھئیے، چناچہ اکبر نے پہلی فرصت میں بہیروبنگاہ کے ساتھ ادھر کا رخ کیا، ادھر سے ہیموں بقال لشکر جرار لے کر آیا، اس کے ساتھ توپیں بھی تھیں اور ہاتھی بھی تھے، ایک سے ایک سفید گھوڑا ، گھسمان کا رن پڑا، ہیموں کی جمعیت زیادہ تھی، لیکن الکبری لشکر نے تابڑ توڑ حملے کرکے کھلبلی مچادی، بعض ہمدردوں نے اس کے جدی وطن سے پیغام بھجوایا کہ تم اور ہیموں دونوں یہاں تاشقند آئو، صلح کرائے دیتے ہیں، لیکن اکبر نہ مانا، ہیموں ایک ہاتھی کے ہودے میں بیٹھا روپے آنے پائی کاحساب لکھ رہاتھا کہ اس لڑائی کا مال غنیمت فروخت کرکے کس کاروبار میں پیسہ لگایا جائے، ناگہاں ایک تیر قضا کا پیغام لے کر اس کی آنکھ میں آن لگا اور وہ بے سدھ ہو کر گر گیا، بقال کو ہم تاریخ کا پہلا موشے دایان کہہ سکتے ہیں۔
ادب کی سرپرستی
انارکلی ایک کنیز تھی جس کی وجہ سے شہزادہ سلیم کا اخلاق خراب ہونےکا اندیشہ تھا،اکبر نے اسے دیوار میں چنوا دیا، ایک مصلحت اس میں یہ تھی کہ سید امتیاز علی تاج اپنا معرکہ آرا ڈرامہ لکھ سکیں اور اردو ادب کے ذخیرے میں ایک قیمتی اضافہ ہوسکے، درباری شاعری نظیری نیشا پوری نے ایک بار کہا کہ میں نے لاکھ روپے کا ڈھیر بھی نہیں دیکھا، بادشاہ نے ایک لاکھ خزانے سے نکلوا کر ڈھیر لگا دیا، جب نظیر اچھی طرح دیکھ چکا توروپے واپس خزانے میں بھجوا دئیے، نظیری دیکھتے کا دیکھتا رہ گیا، اصل میں نظیری یہ حرکت خانخاناں کے ساتھ پہلے بھی کر چکا تھا، خانخاناں نے شاعر کی نیت کو بھانپ کر کہہ دیا تھا کہ اچھااب یہ ڈھیر تم اپنے گھر لے جائو، لیکن اکبر ایسا کچا آدمی نہ تھا۔
اکبر کی حکمت عملی
اکبر میں تعصب بالکل نہ تھا خصوصا شادیوں کے معاملہ میں کچھ ریاستیں فوجوں سے فتح کیں، باقی راجائوں کی بیٹیوں کواپنے حرم میں اور ان کے علاقوں کو اپنے سلطنت میں شامل کر لیا، آج کل کے سیٹھ اور مل مالک جو ایسا کرتے ہیں، تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ برکات حکومت غیر انگلشیہ عزیزو بہت دن پہلے اس ملک میں انگریزوں کی حکومت ہوتی تھی اور درسی کتابوں میں ایک مضمون برکات حکومت انگلیشہ کے عنوان سے شامل رہتا تھا، اب ہم آزاد ہیں، اس زمانے کے مصنف حکومت کی تعریف کیا کرتے تھے، کیونکہ کے اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا، ہم اپنے عہد کی آزادی اور قومی حکومتوں کی تعریف کریں گے، اس کی وجہ بھی ظاہر ہے۔ عزیزو انگریزوں نے کچھ اچھے کام بھی کئے ہیں، لیکن ان کے زمانے میں خرابیاں بہت تھیں، کوئی حکومت کے خلاف بولتا تھا یا لکھتا تھا تو اس کو جیل بھیج دیتے تھے، اب نہیں بھیجتے، رشوت ستانی عام تھی، آج کل نہیں ہے، دکاندار چیزیں مہنگی بیچتے اور ملاوٹ بھی کرتے تھے، آج کل کوئی مہنگی چیزیں نہیں بیچتا، ملاوٹ بھی نہیں کرتا، انگریزوں کے زمانے میں امیر اور جاگیردار عیش کرتے تھے، غریبوں کو کوئی پوچھتا نہیں تھا اب پوچھتے ہیں تو وہ تنگ آجاتے ہیں، خصوصا حق رائے دہندگی بالغاں کے بعد سے ۔ تعلیم اورصنعت و حرفت کو لیجئے، ربع صدی کے مختصر عرصے میں ہماری شرح خواندگی اٹھارہ فی صد ہوگئی، غیر ملکی حکومت کے زمانے میں ایسا ہوسکتا تھا؟ انگریز شروع شروع میں ہمارے دستکاروں کے انگوٹھے کاٹ دیتے تھے، اب کارخانوں کے مالک ہمارے اپنےلوگ ہیں، دستکاروں کے انگھوٹے نہیں کاٹتے ہاں کبھی کبھی پورے دستکار کو کاٹ دیتے ہیں، آزادی سے پہلےہندو بنئیے اور سرمایہ دار ہمیں لوٹا کرتے تھے، ہماری خواہش تھی، کہ یہ سلسلہ ختم ہو اور ہمیں مسلمان بنئے اور سیٹھ لوٹیں،الحمد اللہ کہ یہ آرزو پوری ہوئی۔ جب سے حکومت ہمارے ہاتھ میں آئی ہے ہم نے خاصی ترقی کی ہے۔ خاص برآمدات دو ہیں، وفود اور زرمبادلہ، درآمدات ہم گھٹاتے جارہے ہیں، ایک زمانہ میں تو خارجہ پالیسی تک باہر سے درآمد کرتے تھے ، اب یہاں بننے لگی ہے۔
خانخاناں
خانخاناں کا خطاب ذولفقار الدولہ کا تھا، اکبر کا سب سے کم عمر وزیر تھا، ذہین اور خوش تقریر، اکبر اسے بہت عزیز رکھنے لگا اور باہر کی ولایتوں سے ہر طرح کے معاملت اس کے سپرد کر رکھی تھی، ٹوڈر مل کو یہ بات پسندنہ آئی کیونکہ خانخاناں کامیلان مہاراجہ سام گڑھ کے بجائے فغفور چین کی طرف زیادہ تھا، آخر نورتنوں کے حلقے سے نکلوا کر دم لیا، کہتے ہیں کہ پانی پت کی دوسری لڑائی کے سلسلے میں بھی بادشاہ سے خانخاناں کے اختلافات ہو گئے تھے، اکبر ہمیوں بقال سے صلح پر آمادہ تھا، خانخاناں اس کا مخالف تھا، خانخاناں کو یہ بھی پسند نہ تھا کہ امراء بڑی بڑی جاگیروں پر قابض ہوں، یا علما جائدادیں بنائیں، اس لئےدربار کے علما بھی اس سےناراض ہوگئے تھے، اور اس کے عقائد میں نقص نکالنے لگے تھے۔ خانخانان نے بد دل ہو کر پرچم بغاوت بلند کیا تو لاکھوں لوگ اس سے آملے لیکن ان میں روساء اور خاندانی امیر بہت کم تھے، زیادہ تر عام طبقے کے آدمی تھے، خانخاناں اپنا دربار پیپل کے ایک درخت کے نیچے لگاتا تھا، اس لئے اس کے حامی بھی پیپل والے مشہور ہوئے۔
رامائن
رامائن رامچندر جی کی کہانی ہے، یہ راجہ وسرتھ کے پرنس آف ویلز تھے،لیکن ان کی سوتیلی ماں کیکی اپنے بیٹےبھرت کو راجا بنانا چاھتی تھی اس کے بہکانے پر راجا وسرتھ نےرامچندر جی کو§
_________________ "When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
 |
|
| Sun Dec 09, 2007 1:31 pm |
|
 |
Anne
5 Star Member


Joined: 17 Nov 2007 Posts: 3292 Location: Pakistan |
|
| |
|
Thankyou very Much Askari for providing Ibn e Insha`s Mazameen.
Now this thread gonna be my Favourite one.... Love it.
Im very Big Fan of Ibn e Insha`s stuff and enjoy them more then Anything Else.
You made my day Askari - - - Heartly Thanks from Anne.
_________________
 |
|
| Mon Dec 10, 2007 12:43 pm |
|
 |
askari.z55
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007 Posts: 1505
|
|
| |
|
you are always welcome!
_________________ "When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
 |
|
| Mon Dec 10, 2007 12:54 pm |
|
 |
askari.z55
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007 Posts: 1505
|
|
| |
|

_________________ "When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
 |
|
| Sun Dec 23, 2007 2:08 am |
|
 |
askari.z55
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007 Posts: 1505
|
|
| |
|

_________________ "When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
 |
|
| Sun Dec 23, 2007 2:09 am |
|
 |
askari.z55
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007 Posts: 1505
|
|
| |
|

_________________ "When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
 |
|
| Sun Dec 23, 2007 2:10 am |
|
 |
askari.z55
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007 Posts: 1505
|
|
| |
|

_________________ "When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
 |
|
| Sun Dec 23, 2007 2:11 am |
|
 |
askari.z55
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007 Posts: 1505
|
|
| |
|

_________________ "When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
 |
|
| Sun Dec 23, 2007 2:11 am |
|
 |
askari.z55
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007 Posts: 1505
|
|
| |
|

_________________ "When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
 |
|
| Sun Dec 23, 2007 2:12 am |
|
 |
askari.z55
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007 Posts: 1505
|
|
| |
|

_________________ "When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
 |
|
| Sun Dec 23, 2007 2:12 am |
|
 |
Anne
5 Star Member


Joined: 17 Nov 2007 Posts: 3292 Location: Pakistan |
|
| |
|
Very Nice Article by Ibn e Insha
Enjoyed Reading . . .
Ustaad e Montaram ki tang khechne main koi kasar nahi chori Insha ji ne . . .
Thanks very Much Askari for sharing this Nice Article.
_________________
 |
|
| Sun Dec 23, 2007 5:10 am |
|
 |
askari.z55
Senior Proud Pakistani


Joined: 15 Nov 2007 Posts: 1505
|
|
| |
|
 |
 |
Very Nice Article by Ibn e Insha
Enjoyed Reading . . .
Ustaad e Montaram ki tang khechne main koi kasar nahi chori Insha ji ne . . .
Thanks very Much Askari for sharing this Nice Article. |
ابھی اور بھی ھیں
_________________ "When some blessings come to you, do not drive them away through thanklessness."(Imam Ali a.s.)
 |
|
| Sun Dec 23, 2007 1:36 pm |
|
 |
Waseem777
Pak Newbie
Joined: 04 Feb 2008 Posts: 5 Location: U.K |
|
| seek someone to chat with to learn Urdu |
|
SALAM,
i HOPE YOU ARE WELL.
WOULD YOU LIKE TO BE FRIENDS AND HELP ME LEARN TO IMPROVE MY URDU USING MSN AND WRITING IN ENGLISH TRANSLETERATION: MEH URDU SEEKNE KEE KOSHISH KRA RHA HU
Hope to hear from you soon.
Wsalm
_________________ Salam all. I ould like to meet people to improve my Urdu and for friendship |
|
| Mon Feb 04, 2008 1:58 am |
|
 |
|