Forum Pakistan - Pakistani Forums
Pakistani forum, where you can discuss freely on all issues from khabrain, muqabaley, cricket, khail, film, dramay, shair shaery, safar, batein, muhabat kay qissay, warzish, sehat, rozee, akhbar, siasat, naukary ghar pyaar dokan aur karobar gupshup.
|
|
|
| Author |
Message |
|
|
dj420
Full PK Member

Joined: 11 Jun 2008 Posts: 236 Location: saudi arabia jeddah |
|
| حضرت ع& |
|
حضرت عائشہ پر ناول نہیں چھپےگ ا
امریکی ناشر رینڈم ہاؤس نے مسلمانوں کی جانب سے سخت ردعمل کے پیشِ نظر پیغمبرِ اسلام کی اہلیہ کے بارے میں لکھا جانے والا ایک ناول شائع کرنے کا ارادہ منسوخ کر دیا ہے۔
’جیول آف مدینہ‘ نامی یہ ناول صحافی اور ناول نگار شیری جونز نے لکھا ہے اور اس کا موضوع حضرت عائشہ کی زندگی ہے۔
اسے بارہ اگست کو بازار میں فروخت کے لیے پیش کیا جانا تھا تاہم اب رینڈم ہاؤس کا کہنا ہے کہ انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ ’یہ کتاب کچھ مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیز ثابت ہو سکتی ہے اور یہ کچھ ریڈیکل گروپوں کو تشدد پر بھڑکا سکتی ہے‘۔
رینڈم ہاؤس کے نائب ناشر ٹامس پیری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے سوچ بچار کے بعد اس ناول کی چھپائی کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے اور یہ فیصلہ، مصنفہ، رینڈم ہاؤس کے ملازمین اور ناول کی تقسیم اور فروخت سے متعلق تمام افراد کی حفاظت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے‘۔
رینڈم ہاؤس کے مطابق ناول کی مصنفہ اس کی اشاعت کے لیے کسی دیگر ناشر سے رجوع کر سکتی ہیں۔
ناول کی مصنفہ شیری جونز کا کہنا ہے کہ جب مئی میں انہیں اس بات کا پتہ چلا کہ ان کی تصنیف کی چھپائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کی جا رہی ہے تو وہ دنگ رہ گئیں۔
رینڈم ہاؤس کی جانب سے ناول شائع نہ کرنے کی بات اس وقت منظرِ عام پر آئی جب امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل میں شائع ہونے والے مضمون میں مسلمان مصنفہ اسرٰی نعمانی نے اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے اس پر افسوس کا اظہار کیا۔
نعمانی کا کہنا تھا کہ ناشرین کو خدشہ ہے کہ اس ناول کی اشاعت کا ردعمل کچھ ویسا ہی ہو سکتا ہے جیسا کہ سلمان رشدی کے ناول’شیطانی آیات‘ کی اشاعت پر سامنے آیا تھا۔
اپنے مضمون میں اسرٰی نعمانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس ناول کی مخالفت کا سلسلہ شروع کرنے والوں میں ٹیکساس یونیورسٹی کی پروفیسر ڈینیس سپلبرگ کانام بھی شامل ہے۔ پروفیسر سپلبرگ کو اس کتاب کا مسودہ جائزے کے لیے بھیجا گیا تھا اور انہوں نے اس کتاب کو ’ کریہہ‘، ’احمقانہ‘ اور’ کم درجے کی فحاشی‘ قرار دیا تھا۔
اسرٰی کے مضمون کی اشاعت کے تین دن بعد پروفیسر ڈینیس سپلبرگ نے اسی اخبار میں یہ لکھا کہ وہ تن تنہا اس کتاب کی اشاعت نہیں رکوا سکتی تھیں اور اس لیے’ میں نے اسے اپنی ذمہ داری سمجھا کہ میں پریس کو بتاؤں کہ یہ ناول کس طرح ممکنہ طور پر کچھ مسلمانوں میں اشتعال کا باعث بن سکتا ہے‘۔
خیال رہے کہ ناول کی مصنفہ شیری جونز نے کبھی مشرقِ وسطٰی کا دورہ نہیں کیا ہے تاہم وہ چند برس عرب تاریخ کی طالبعلم رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ناول ان سب چیزوں کا نچوڑ ہے جو انہوں نے سیکھی ہیں۔
|
|
| Fri Aug 15, 2008 2:50 am |
|
 |
|
|
|